مقدمہ کشمیر اور سفارتی ناکامی۔۔۔ تحریر: عمر منہاس

انڈیاکے زیرانتظام کشمیر کی خصوصی حثیت ختم ہونے کے بعد سے کرفیو کے نفاذکودو ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے مگر تاحال وادی کے محصورین کے لیے کوئی مدد کو نہ پہنچ سکاہے۔وادی کی صورتحال بدستور کشیدہ ہے اورلوگوں پر مواصلاتی پابندیاں اب بھی جاری ہیں۔گزشتہ 72سالوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ مسلسل دو ماہ سے وادی میں زندگی معطل ہے۔دوسری طرف پاکستان کی بھی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت اپنے منطقی انجام کی جانب رواں دواں ہے۔امت مسلمہ کا بھانڈابیچ چواہے پر پھوٹ رہا ہے۔ ساتھ ساتھ آزادکشمیر کی سیاسی قیادت کا مفاد پرست چہرہ بھی کیلوں، مہاسوں اور داغ دھبوں سے پاک ہو کر سامنے آیا ہے ۔ پاکستانی حکمرانوں کی کشمیر کش پالیسیز سے اختلاف ایک الگ بات ہے لیکن پاکستان کو برا

بھلا کہنا یا پاکستان کے بار میں برا سننا کوئی بھی گوارہ نہیں کرتا۔اب کی باربھی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان میں پارلیمنٹ اور سینٹ کے جوائنٹ سیشن ہوئے اور ہندوستانی اقدام کی بھرپور مذمت کی گئی۔پاکستان کی کاوش اور چین کی مدد سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ میں بند کمرے کا اجلاس ہوا جس میں پانچ مستقل ارکان نے کشمیرپر بات کی لیکن خاموشی سے اٹھ کر چلے گئے۔وزیر اعظم پاکستان نے جمعہ کو آدھا گھنٹہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے مختص کیا لیکن پھر بھول گئے۔۔۔وزیر اعظم پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی میں جاری ظلم و بربریت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا اور کشمیریوں کو درپیش مصائب و مشکلات کو بھرپور اور مئوثر انداز میں اجاگر کیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان نے انگریزی میںبہترین تقریر کی لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کتنے ممالک ہمارے مئوقف کے ساتھ کھڑے ہیںاور کتنے ممالک کشمیر کے حوالے سے ہمارے مئوقف کی تائید کر رہے ہیں؟کیونکہ دنیا کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ آپ اپنی بات انگریزی میں کہہ رہے ہیں ، جرمن میں کر رہے ہیں یا ہندی میں۔۔دنیا یہ دیکھتی ہے کہ بات کرنے والے ملک کی معیشت کی کیا صورت حال ہے، گلوبل پالیٹکس میں اس کی کیا اہمیت ہے اور دنیا کی سپر پاورز کے ساتھ اس کے تعلقات کیسے ہیں۔وزیر اعظم کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب سے پہلے ۱۱ستمبر کو وزیر خارجہ شاہ محمو د قریشی نے جنیوا میں یہ دعویٰ کیا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستان نے 58 ممالک کی حمایت سے ایک قرارداد تیارکی ہے جس میں بھارت سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ وادی میں

انسانی حقوق کی پامالی بند کرے۔اگلے دن وزیر اعظم پاکستان نے شاہ محمود قریشی کے اس دعوے کو ٹویٹ کرتے ہوئے ان تمام ممالک کی حمایت پر ان کا شکریہ بھی ادا کردیا۔ پاکستان کو 19 ستمبر تک اقوام متحدہ کی ہیومین رائٹس کونسل میںیہ قرارداد پیش کرنا تھی تاکہ اس کی روشنی میں مقبوضہ وادی کی صورتحال پر کونسل کا خصوصی اجلاس بلایا جا سکے۔اس قرارداد کو پیش کرنے کے لئے پاکستان کو کونسل کے 47 میں سے صرف 16 ممالک کی حمایت درکار تھی لیکن افسوس کہ قرارداد پیش کرنے کے معاملے پر پاکستانی اور کشمیری قوم کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ۔۔۔ پاکستان اس اجلاس میں قرارداد جمع کرانے کے لئے درکار کم سے کم ممالک کی حمایت کی شرط بھی پوری نہ کر سکا۔شاہ محمود قریشی نے جنیوا میں اٹھاون ممالک کی

حمایت کے حوالے سے بیان دیا تھاحالانکہ جنیوا کے نسانی حقوق کونسل میں اراکین کی تعداد صرف 47 ہے۔یہ ایک بہت بڑی سفارتی ناکامی تھی ۔ چلیں اگر قرارداد پیش کرنے کے لئے ہم16ممالک کی حمایت حاصل نہیں کر سکے تو کونئی بات نہیںلیکن ناکامی کو چھپانے کے لیے 58 ممالک کی حمایت کا دعویٰ کیوں کیا گیا؟اس ملک کا بنیادی المیہ یہ ہے کہ یہاں سچ کو ظاہر نہیں کیا جاتا اور جھوٹ کو اس عمدگی سے پیش کیا جاتا ہے کہ یقین کرنا مجبوری بن جاتا ہے۔ یہی حال یہاں بھی ہوا حالانکہ بھارت نے اسی دن ہی شاہ محمود قر یشی کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پچاس سے زائد ممالک کی حمایت کا دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے۔کیا قوم کے ساتھ جھوٹ بول کر مقدمہ کشمیر کمزور ہوا یا مضبوط۔۔۔گزشتہ دن جاوید چوہدری کے

ساتھ لائیو پروگرام میں شاہ محمود قریشی صاحب تو اپنے اس بیان سے ہی مکر گئے اور کہا کہ ہم نے تو ایسی کوئی قرارداد ہی جمع نہیں کرانا تھی۔۔۔مزید فرمایا کہ ابھی ہیومن رائٹس کمیشن میں جانے کا وقت نہیں آیا جب وقت آئے گا تو ہم خود کمیشن میں جائیں گے کیونکہ یہ لمبا میچ ہے ٹی ٹونٹی نہیں ہے۔۔۔یعنی یہ کھیل جاری رہے گا۔کشمیر کے معاملے پر او آئی سی کا خصوصی اجلاس پاکستان اور تنظیم کے صدر ترکی کی خواہش کے باوجود اب تک منعقد نہیں کیا جا سکا۔اس حوالے سے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب ہمارے ساتھ ایک پیچ پر نہیں۔۔۔۔غیر ملکی دورے ، سیمینارز، کانفرنسز اور فوٹو سیشن وغیرہ۔۔۔اس سارے عمل سے محصور کشمیریوںکوکیا فائدہ حاصل ہوا۔۔۔کیا اس سے ہندوستان کے رویے میں کوئی تبدیلی آئی۔۔۔آپ کے

پاس لائحہ عمل کیا ہے؟ امت مسلمہ کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ چکا، عالمی برادری کی حقیقت سامنے ہے تو آپ کے پاس اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کے بیانات کے علاوہ کوئی دوسری قابل عمل پالیسی ہے؟خارجہ سطح پر اسلام آباد کاانحصارچین اور خلیجی ممالک پر رہا ہے تاہم نئے معاملات میں یہ ملک بھارت کی جانب دیکھ رہے ہیں۔آج کل کسی بھی دو ممالک کے تعلقات باہمی مفادات پر ہوتے ہیں نہ کہ اسلامی بھائی چارے پر۔۔۔عالمی سیاست کے سینے میں نہ تو دل ہوتا ہے اور نہ ہی ضمیر۔۔یہ صرف مفادات کے گرد گھومتی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سفارتی محاذ پر ناکامی کے خلاف درست حکمت عملی تشکیل دی جائے ۔ مظلوم کشمیریوں کا مقدمہ صرف 80لاکھ مسلمانوں کا نہیں ہے بلکہ یہ بالا رنگ و نسل ڈیڑھ کروڑ سے زائد

انسانوں کا مسئلہ ہے۔ ہمیں کشمیر کے حوالے سے بہتر لابنگ کرنا ہو گی ، نئے سرے سے دوست بنانا ہوں گے ۔ اپنے مفادات کو دیکھنا ہو گا۔ خارجہ پالیسی کی ناکامیوں کو دور کرنے کے لیے ہمیں اس پر نظر ثانی کرنا ہو گی کہ بین الاقوامی تعلقات میں نہ تو کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی دشمن ہمیشہ دشمن رہتا ہے۔