افغانستان میں امن کیسے ہوگا۔۔۔ تحریر: رائو عمران سلیمان

افغانستان کے شہر جلال آباد میں حالیہ خود کش دھماکہ وہاں پر موجود اندرونی خلفشار کی عکاسی کرتاہے ایسے واقعات کو اسی طرح کنٹرول کیا جاسکتاہے کہ افغان طالبان اور کابل حکومت آپس میں کوئی ایسا سیاسی سمجھوتہ کرلیں جس کے بعد اس قسم کے انتہا پسندانہ واقعات کو روکا جاسکے یعنی مل جل کر افغانستان کے ریاستی اختیارات کو استعمال کیا جاسکتاہے ،یہ پاکستان کے مفاد میں ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہواوراس سلسلے میں پاکستان کو اپنا مثبت کرداراداکرتے رہناچاہیے ۔چاہے کابل میں کسی کی بھی حکومت ہو،پاکستان کی وجہ سے پہلے بھی امریکا اورافغان طالبان کے درمیان مزاکرات ہوئے تھے،کیونکہ پاکستان کے تعاون کے بغیر یہ مزاکرات ناممکن ہیں ،پاکستان کی پالیسی ہمیشہ سے ہی یہ رہی ہے کہ معاملات کو مزاکرات کے زریعے

حل کیا جائے ۔لیکن ہم نے دیکھا کہ امریکا نے گزشتہ دس ماہ سے جاری مزاکرات کو منقطع کردیا،امریکی صدر نے اپنے ٹیویٹ میں لکھا کہ طالبان سے مزاکرات کابل حملے کے بعد منسوخ کیئے ہیں ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سلسلے میں سماجی رابطے کی ویب سایٹ پر مزاکرات کی منسوخی کی وجہ مزاکرات کے دوران کابل میں ہونے والے خود کش دھماکے کو قراردیا تھاجس میں ایک امریکی فوجی سمیت بارہ افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ایسا بھی محسوس ہوا کہ جب دونوں دھڑو ں کے درمیان مسلسل مزاکرات چل رہے ہیں تو پھر ایسا کیوں ہوا کہ کابل میں خود کش دھماکہ کردیا گیا ،یوں بھی محسوس ہوا کہ طالبان کے لیڈران اور جنگجو کے درمیان شاید باہمی اتفاق کی کمی ہے یا طالبان لیڈروں میں گروہ بندی ہے ؟ میں سمجھتا ہوں کہ افغانستان میں مکمل امن کے لیے طالبان کی آپس میں موجود چپقلش جس کی ایک جھلک مزاکرات کے دوران کابل دھماکہ بھی ہے شامل ہے کو ختم کرنا ہوگا یعنی امریکی فوجوں کے انخلاء کے ساتھ کابل حکومت اور افغان طالبان کا امن کے لیے خود سے ایک پلیٹ فارم پر آنا بھی ضروری ہے،کیونکہ افغان امن مزاکرات پر ایک اختلافی احتجاج افغان صدر اشرف غنی نے بھی کیا تھاجسے نظر انداز کرکے امریکا نے مزاکرات کا عمل شروع کیا ، اسی لیے مزاکرات کا یہ معاملہ امن کے معاملے میں بہت باریکی رکھتاہے، کبھی کبھی تو ایسا بھی لگتاہے کہ پاکستان سمیت پوری دنیا ہی افغانستان میں عمل لانا چاہتی ہے مگر شاید افغانستان میں موجود حکام ایسا نہیں چاہتے اس سلسلے میں جب وہاں حملے ہوتے ہیں تو اس سے سب سے زیادہ نقصان وہاں پر موجود عام شہریوں کا ہوتاہے جو بے موت مارے جاتے ہیں،لہذا افغان امن مزاکرات میں خود افغان حکومت

کی رضامندی نہ ہونے سے معاملہ ویسے بھی مشکوک ہی چل رہاتھا مگر ان تمام تر باتوں کے باوجود پاکستان کی یہ ہی خواہش رہی ہے کہ افغانستان کے امن کا معاملہ چاہے کتنا ہی پیچیدہ کیوں نہ ہو اسے ہر صورت میں حل ہونا چاہیے اس سلسلے میں چین اور روس بھی پاکستان کی طرح افغانستان میں امن وامان کے خواہشمند ہیں یہ دونوں ممالک بھی چاہتے ہیں کہ افغانستان میں سلامتی کا عمل جاری رہنا چاہیے اور وہ اس سلسلے میں پاکستان سے ملکر سفارتی دبائو کے زریعے افغانستان کے معاملات کو بہتر کرنا چاہتے ہیں جس کی کوششیں وہ اپنے اپنے سفارتی انداز میں کر بھی رہے ہیں چین اور روس دونوں ممالک کی یہ خواہش ہے کہ افغانستان کسی بھی طرح سے دہشت گردوں کا ٹھکانہ نہ بنے جو سنٹرل ایشاء کے ممالک میں عدم استحکام

کا سبب بنتاہے چین کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ یہاں کے انتہا پسند انہ واقعات کے اثرات چین کے صوبے شن چیانگ میں نہ پہنچ جائے جہاں کی اکثریت مسلمانوں پر مشتعمل ہے لہذا افغانستان میں سکون ہونے سے صرف ایک امریکا ہی نہیں بلکہ اس سے پاکستان چین روس اور ایران کو بھی فائدہ پہنچتاہے ۔ مزاکرات کے دوران کابل میں حملے اور امریکی کی جانب سے مزاکرات کی منسوخی کے بعد ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جس سے اندازہ ہوا کہ شایدا ب یہ مزاکرات کا عمل آگے نہ بڑھ سکے مگر اب پاکستان کی سفارتی کوششوں کی وجہ سے امریکا اور افغان طالبان کے مابین پھر سے گفت و شنید کے امکانات روشن نظر آرہے ہیں ،ستمبر2001کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان کے وفد نے پاکستان کا دورہ کیا ہو اس دوران طالبان لیڈران

کی جو گفتگو پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ساتھ ہوئی ہے اس سے ظاہر ہوتاہے کہ طالبان بھی امریکا کے ساتھ ٹوٹے ہوئے مزاکرات کو ایک بار پھر سے وہی سے بحال کرنا چاہتے ہیں جہاں سے منسوخ ہوئے ہیں۔ اور دوسری جانب افغان طالبان اور امریکا کے مزاکرات دوبارہ سے اس صورت میں بھی بحال ہوسکتے ہیں کیونکہ خود امریکا بھی افغانستان سے اپنی فوجیں بتدریج نکالنا چاہتاہے اور امریکا کا یہ مقصد طالبان سے مزاکرات کے بغیر کبھی پورا نہیں ہوسکتا،لہذا امید تو یہ ہی ہے کہ امریکا جلد ایک بار پھر سے افغان طالبان سے مزاکرات کرے گاکیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ امریکا کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے ۔ علاوہ ازیں امریکا اور طالبان میں اگر ایگریمنٹ ہوجائے تو اس

بات کا امکان روشن ہوسکتاہے کہ امریکا اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائے ،مگر اس مزاکرات کی کامیابی کے بعد ایک ایگریمنٹ طالبان اور کابل حکومت کے درمیان ہونا بھی باقی ہوگا جس کی کوئی کوششیں افغان طالبان اور امریکا مزاکرات کے بعد ہوسکتی ہیں،کیونکہ افغانستان میں امن وسلامتی کا بہتر ہوناناصرف افغانیوں کے لیے ایک اچھا تحفہ ہوگا بلکہ اس سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری آئیگی جس سے خطے میں علاقائی سلامتی کو فروغ ملے گا،لہذا مسئلہ افغانستان کا پر امن اور باھم رضامندی سے ڈھونداہوا ہر عمل افغانستان ،امریکا سمیت پاکستان کے مفاد میں ہے مگراس مزاکرات کو جب پھر سے شروع کیا جائے تو اس میں کابل حکومت کی کچھ نہ کچھ رضامندی کا عمل دخل ہونا چاہیے تاکہ طالبان کے معاہدے میں ہونے والے

نکات کو حل کرنے میں مدد مل سکے جو قیدیوں کی واپسی یا اور دیگر معاملات پر مشتعمل ہوسکتے ہیں اور یہ سب کچھ کابل حکومت کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے ،یعنی اس امن مزاکرات میں تمام دھڑوں کی باہمی رضامندی کا ہونا ہی اصل اہمیت کا حامل ہے ، اور افغانستان میں اصل امن کی جانب پیش قدمی ہے پاکستان اسی امن کی کوششوں میں اپنا کرداراداکررہاہے اور امریکا اور طالبان کے درمیان امن وامان کی راہیں ہموار کرنے کے لیے کلیدی کرداراداکررہاہے اس سلسلے میںدونوں حریفوں کے درمیان مزاکرات کا عمل ایک بار پھر دوھا یا پھر اسلام آباد میں شروع ہوسکتاہے ۔ اس سلسلے میں اگر یہ معاہدہ ہوجاتاہے اور افغانستان سے امریکا کی بقیہ فوجیں جن کی تعداد تقریباً چودہ ہزار بتائی جاتی ہیں جن میں کچھ غیر فوجی

یعنی مددگار بھی شامل ہیں جبکہ کچھ وزنی سازوسامان ہے جو پاکستان کے زریعے کراچی پورٹ سے جائے گا،اس کے بعداس بات کا امکان بھی ہے امریکاپاکستان کی اقتصادی امداد دوبارہ سے شروع کردے گا جو نوازشریف دور میں آہستہ آہستہ بند ہونا شروع ہوئی اور 2018-19میں امریکا کی جانب سے بلکل ہی روک دی گئی تھی۔ کچھ سیاسی ناقدین اور تجزیہ نگاروں کا یہ مانناہے کہ اگر امریکا اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائے گا تو اسے پاکستان کی ضرورت نہ رہے گی اور اس کے بعد امریکا کیوں پاکستان کوامداد دے گا، اس سلسلے میں میرا یہ مانناہے کہ افغانستان سے امریکا کی فوجیں نکلنے کے بعد افغانستان میں استحکام اور امن کے لیے پاکستان کی مدد کی ضرورت درپیش رہے گی اور نائن الیون کے بعد امریکا اب کافی سمجھدار

ہوگیاہے کہ معاملات کا حل فوجی تنائو کی بجائے گفت وشنید سے ڈھونڈنا ہی عقل مندی ہے ۔ اس سلسلے میں امریکا کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ افغانستان میں بدامنی کا معاملہ نائن الیون کے مسئلے سے پہلے بھی رہاہے اس لیے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ امریکی فوجوں کے انخلا سے افغانستان میں مکمل امن آجائے گا مگر یہ درست ہے کہ معاملات کسی حد تک بہتری کی جانب آجائینگے۔