طاہرالقادری نے یوٹرن لے لیا!سیاست چھوڑنے کے اعلان کے باجود ملکی سیاست میں دوبارہ انٹری

لاہور (نیوز ڈیسک)قائد تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ سیاست چھوڑی ہے مگر ماڈل ٹائون کے قاتلوں کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ انصاف کے لیے جدوجہد کرنا ایمان کا حصہ ہے، قاتلوں کا پیچھا اس دنیا میں چھوڑیں گے نہ آخرت میں، ریاست مدینہ میں انصاف سب کے لیے اور خون کا بدلہ خون کا قانون رائج تھا ۔ریاست نے شہدائے ماڈل ٹائون کے یتیم بچوں کے سر پر ہاتھ رکھنے کی بجائے طاقتوروں کا ساتھ دیا۔14بے گناہوں کو قتل کرنے والے دندناتے پھر رہے ہیں اور سانحہ ماڈل ٹائون کے ظلم کے خلاف احتجاج کرنے والے 107کارکنوں کو 5سال اور 7سال کی سزا سنا کر جیلوں میں بند کر دیا گیا۔ قانون اور

انصاف کی بڑی بڑی آنکھیں ہیں جو امیر اور غریب کا چہرہ دیکھ کر حرکت میں آتا ہے۔وہ گزشتہ روز مختلف عدالتوں میں سانحہ ماڈل ٹائون کیس کے حوالے سے پیش ہونے والے وکلاء کے اجلاس میں گفتگو کررہے تھے۔ وکلاء نے انسداد دہشتگردی عدالت میں جاری استغاثہ کی کارروائی، لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں دائر اپیلوں کے بارے میں تازہ ترین صورت حال سے آگاہ کیا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ ماڈل ٹائون میں شہید ہونے والے اور زخمی ہونے والے کارکنان نہیں تھے وہ میرے بیٹے اور بیٹیاں تھیں۔وہ کبھی نظروں سے محو نہیں ہوئے۔ پانچ سال کا ہر لمحہ حصول انصاف کی جدوجہد میں گزرا، وکلاء کی فیسیں اور عدالتی اخراجات لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں ہیں، انصاف سے متعلقہ اداروں نے انویسٹی گیشن اور پراسیکیوشن کے مرحلہ پر مظلوموں کی بجائے قاتلوں کا ساتھ دیا۔انصاف کے عمل کو قانون کی پٹڑی پر چڑھانے کیلئے سانحہ کی ازسرنو تفتیش ضروری ہے اور اس کے لیے قانونی جنگ لڑرہے ہیں۔میری براہ راست نگرانی اور توجہ کی وجہ سے کیس آج بھی زندہ ہے ، قاتلوں نے معافی تلافی کے لیے بہت پاپڑ بیلے ،قاتلوں نے مشترکہ دوستوں کے ذریعے بہت سفارشیں کروائیں، میرا ایک ہی جواب تھا اگر یہاں میرے بیٹے ہوتے تو ان کا خون معاف کرنے کا اختیار رکھتا تھا مگر اپنی روحانی اولاد کا خون معاف کرنے کا اختیار میرے پاس نہیں ہے۔فیصلہ عدالت میں ہو گا۔انہوں نے کہا کہ آج پھر کہتا ہوں شہدائے ماڈل ٹائون کا خون میرے سمیت پوری تحریک پر ایک قرض ہے ،یہ قرض انصاف بشکل قصاص چکایا جائے گا۔ جب تک کیسز عدالتوں میں نہیں تھے ہم سراپا احتجاج تھے ،سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ احتجاج روک کر قانونی عمل کا حصہ بنیں تب سے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ساری توجہ قانونی پراسیس پر ہے۔اب جب کیسز عدالتوں میں ہیں تو احتجاج کس کے خلاف کریں۔