نہ وزیراعظم کا استعفیٰ ،نہ نئے انتخابات، فضل الرحمن دراصل چاہتے کیا ہیں،آزادی مارچ موخرکرانے کی قیمت سامنے آگئی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئےسینئرتجزیہ کار ظفر ہلالی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ایک مارچ کرنا چاہتے ہیں۔ ایک فیصد بھی اِن کو چانس نہیں ہے کہ یہ لوگ جیتیں گے یا کامیاب ہو جائیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر گڑ بڑ ہوئی ، جو کہ یہ لوگ یقیناً کریں گے ، تو صرف لوگ مریں گے حکومت کہیں نہیں جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ان کے ہاتھ میں نہیں آئے گا۔ مولانا فضل الرحمان تو خود ایک غیر مقبول شخصیت ہیں۔ اور ان کے جو دو ساتھی ہیں وہ تو جیل میں ہیں۔تجزیہ کار ظفر ہلالی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو اگر چار چیزیں دے دی جائیں تو وہ کبھی بھی نہیں نکلیں گے۔ ایک اُن کو پیسے دے دیں۔دوسری بات یہ ہے کہ کئی سالوں سے منسٹر انکلیو میں جو اُن کا گھر

تھا وہ اُن کو واپس کر دیا جائے۔اُن کوچیئرمین کشمیر بنا دیں اور ضمنی الیکشن کروا کے انہیں ایک نشست دلوا دیں وہ کبھی بھی باہر نہیں نکلیں گے۔سینئرتجزیہ کار ظفر ہلالی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو پارلیمنٹ میں ایک نشست چاہئیے۔ ان کو پیسے دے دیں ، سرکاری گھر دے دیں تو مولانا صاحب خوش ہو جائیں گے۔سینئرتجزیہ کار ظفر ہلالی نے کہا کہ اس وقت مجھے بے حد افسوس ہو رہا ہے کہ اس وقت جب ہماری معیشت کی اتنی بُری حالت ہے تو ایسے حالات میں یہ لوگ آزادی مارچ نکال کر حکومت کو متزلزل کرنا چاہتے ہیں اور وہ بھی صرف اس لیے کہ ان کے پاس مدارس ہیں اور اس لیے کہ ان کے پاس ایسے طالب موجود ہیں جن کے کہنے پر یہ لوگوں کو باہر نکال سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ میرے خیال سے یہ ان کی جانب سے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ ہے۔