جمشید دستی کی ایک اور جعلی ڈگری پکڑی گئی،اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور بی اے کی ڈگری کالعدم قرار دیدی

بہاولپور (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی کے سابق رکن جمشید دستی کی ایک اور جعلی ڈگری پکڑی گئی۔ تفصیلات کے مطابق اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے سال 2017ء میں بی اے کی حاصل کردہ ڈگری کو یونیورسٹی انتظامیہ نے کالعدم قرار دے دیا۔ جبکہ سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی طرف سے جمع کروائی گئی انٹرمیڈیٹ کی سند کی بھی تصدیق نہیں ہوسکی۔یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے تحقیقات کے دوران جمشید دستی کے شناختی کارڈ رولنمبر سلپ پر بھی الگ الگ تصاویر پائی گئی۔ اسلامیہ یونیورسٹی کی بی اے کی سند پر جمشید دستی نے وکالت کی ڈگری کے لیے ایل ایل بی میں داخلہ بھی حاصل کررکھا ہے۔

یونیورسٹی اتنظامیہ کے مطابق بے اے کے داخلہ فارم پر تصاویر اور شناختی کارڈ کی کاپی انٹر کے رزلٹ کارڈ سے مطابقت نہیں رکھتی۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھی چیئرمین عوامی راج پارٹی اور سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی ایل ایل بی کے امتحان میں فیل ہوگئے تھے۔ ہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی طرف سے ایل ایل بی سال اول کے امتحانی نتائج کا اعلان کیا گیا جس میں سابق قانون ساز جمشید دستی سال اول میں قانون کے تمام پرچوں میں فیل قرار پائے تھے۔ خیال رہے کہ جمشید دستی کو 25 جولائی 2018ء کے عام انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔جمشید دستی سیاست دان ہیں اور ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے شہر مظفر گڑھ سے ہے۔ ان کی وجہ شہرت عوامی سیاست ، اپنے علاقے کے روایتی جاگیردار سیاستدانوں کے خلاف آواز بلند کرنا اور ”جعلی ڈگری” بھی رہی ہے۔ وہ پہلی مرتبہ 2008ء کے الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ٹکٹ پر رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ 2010ء میں جعلی ڈگری رکھنے کے الزام میں انہیں قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دینا پڑا تھا لیکن اس کے بعد وہ ضمنی انتخاب میں دوبارہ اسی نشست سے منتخب ہوگئے تھے۔ 2013ء کے عام انتخابات میں جمشید دستی نے آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی جبکہ 2018ء کے انتخابات میں انہیں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی تھی۔