مولانا مفتی محمود کا عالم بالاسے مولانا فضل الرحمٰن کو خط ۔۔۔ تحریر: علی حسن جاموٹ

برخوردار فضل الرحمٰن
اسلام و علیکم
جیتے رہو، اقتدار کی غلام گرد شوں میں ہمیشہ سرخرو رہو، کرسی تمھارے گھر کی باندی رہے۔عالمِ بالا میں آجکل تمھارے آزادی مارچ کا بہت چرچہ ہے، ہر طرف اگر کوئی موضوعِ سخن ہے تو وہ ہے بس آزادی مارچ۔ کمال کردیا تم نےآجکلیہاں میں سینہ فخر سے چوڑا کرکے گھومتا ہوں اور فخر کیوں نہ کروں آخر اللہ کی رحمتوں کے طفیل تم سا ہونہار بیٹا جو پایا۔ جہاں ہر سُو آزادی مارچ چھایا ہو وہیں میں نے بھی سوچا کہ تم سے کچھ دل کی باتیں بھی ہو جاہیں۔ سچ پوچھو تو میں ہمیشہ سے تمھاری سیاسی بصیرت اور صلاحیتوں کا متعرف رہا ہوں۔ تمھارے سیاسی طرز عمل نے مجھے باور کرایا کہ تم مجھ سے زیادہ باصلاحیت اور موقع شناس سیاستدان ہو۔ ماضی میں جس طرح تم نے بیک وقت حزبِ اقتدار و اختلاف کی سیاست کی دل عش عش کر اٹھتا ہے ۔ ایسی صلاحیت تمھارے ہم عصروں میں کہاں؟ بے نظیر بھٹو سے لیکر آصف علی زرداری اور نواز شریف سے لیکر شہباز شریف تک سب تمھاری عملیت پسندی کے آگے دم بھرتے نظر آتے ہیں البتہ نوجوان بلاول کی صلاحیتں کسی طور پہ تم سے کم نہیں بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ یہ نوجوان تم سے بھی أگے جائے گا۔جونہی تمھاری جماعت نے آزادی مارچ کی حتمی تاریخ کا اعلان کیا ہے ہر طرف اس مارچ کے اغراض و مقا صد اور ممکنہ نتائج پر گفتگو ہورہی ہے۔ دنیا کی طرح یہاں بھی کچھ لوگ پرجوش اور کچھ تنقیدی رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ ابھی چند روز پہلے کی بات ہے ایک صاحب میرئے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے مفتی صاحباپکے فرزند کو ہوا کیا ہے جو اس نظام کے پیچھے ہتھوڑا لیکر پڑ گئے ہیں۔ آخر یہ مارچ انکی سیاست کے لیئے کتنا سودمند ثابت ہوگا جب انتخابی عمل سے متاثرہ دو بڑی جماعتیں اس میں شمولیت کی حجت تمام کر رہی ہوں، دونوں جماعتوں کے طرز عمل سے ایک ہی بات سامنے آتی ہے کہ وہ تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو کے مقولے پر عمل پیرا ہیں جبکہ آپکے بیٹے کی جماعت جو اس مارچ کی روحِ رواں بھی ہے نہ صرف پرجوش ہے بلکہ حکومت کو گرانے کے لیئے جنگ کا اعلان کرچکی ہے جبکہ اس کا اپنا فائدہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ یاد رکھو اگر تمھارے بیٹے کی جماعت عمران خان کو گھر بھیجنے میں کامیاب ہو بھی جاتی ہے تو نئے انتخابات کی صورت میں جو پارٹی بھی اقتدار میں آئے کم سے کم تمھارے بیٹے کی جماعت نہیں آسکتی، ایسی صورت میں جو جماعتیں متاثرہ بھی ہیں اور کسی بھی نئی صورتحال کے پیشِ نظر انکا فائدہ بھی زیادہ ہے پھر بھی چپ ہیں جبکہ آپکے بیٹے کی جماعت حکومت کو چلتا کرکے بھی خاطر خواہ فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں تو پھر اتنا بڑا بوال کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ مجھے لاجواب کرکے وہ چلتا بنا۔ میں نے اسکی باتوں پہ ہر طرح سے غور کیا پر مجھے اس الجھی ڈور کا سرا ہاتھ نہ آیا، پھر بھی میرے اطمینانِ قلب کے لیئے جو بات اہم ہے وہ یہ کہ تم نے بطور سیاستدان کبھی بھی گیلی زمیں پہ اپنے پاؤں نہیں رکھے آخر تم نے کچھ نہ کچھ پانی دیکھ ہی کپڑے اتارنے کا فیصلہ کیا ہوگا۔انہی سوالوں کے جواب ڈھونڈھنے کی کوشش کرہی رہا تھا کہ یہاں عالمِ بالا میں مقیم بڑی سرکار کیسابقہ ایک اہم شخصیت بالمشافہ ملاقات کے لیئے تشریف لائیاور باتوں ہی باتوں میں وہ فرمانے لگے مفتی صاحب لگتا ہے کہ آپ آجکل اپنے فرزندِ ارجمند کے آزادی مارچ کے ممکنہ نتائج کا حساب کتاب لگانے میں مصروف ہوں گے؟ چلیں آپ کو اندر کی خبر دے ہی دوں شائد ممکنہ نتائج کے حوالے سے آپکی کچھ مدد ہو جائے۔ مزید فرمانے لگے آپ بے فکر رہیں آپکے فرزند اشاروں کی زبان کو اچھی طرح سے سمجھتے ہیں کوئی نہ کوئی اشارہ پاکر ہی طبلِ جنگ بجا رہے ہیں اور اب کی بار اس جنگ کا بنیادی نقطہ صدارتی نظام کے لیئے راہ ہموار کرنا ہے اس لیئے آپ لمبی تان کر سوجائیں آپکے فرزند کو حصہ بقدر جثہ سے کچھ زیادہ ہی ملے گا آخر سرکار اپنے دوستوں کا خیال رکھتی ہے ۔ ابھی پچھلے سوالوں کے جواب ہی نہیں ملے تھے کہ انکی وجہ سے نئی سوچوں نے آن لیا اتنے میں ایک قاصد جناب سید شاہ مردان شاہ صاحب دوئم المعروف پیر پگارہ صاحب کا حکم لیکر آیا کہ پیر سائیں نے یاد کیا ہے۔ میں فوراً محلہِ کرامات کی طرف روآنہ ہوگیا۔ پیر سائیں نے دیکھتےہی فرمایا کہ مفتی صاحب برخوردار سے پوچھا ہے کہ اپنی مدد آپ کے تحت رختِ سفر باندھا ہے یا بڑی سرکار نے کوئی آسرہ دیا ہے؟ میں نے جواب دیا پیر سائیں سچ پوچھیں تو میں تمام معاملات سے لاعلم ہوں پر فضل الرحمنٰ پہ خود سے زیادہ بھروسہ ہے۔ میری بات سن کر پیر صاحب ناصحیانہ انداز میں مجھ سے مخاطب ہوئے اور فرمایا دیکھو مفتی صاحب ویسے تو برخوردار کو کسی مشورے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ سیاست کی حرکیات اور موقع کی نزاکت کو ہم دونوں سے اچھی طرح سمجھتا ہے، میرا پیغام اس تک پہنچوا دو کہ اگر بڑی سرکار پشتی بانی کررہی ہے تو آنکھیں بند کرکے میدان میں اتر جائے وگرنہ وقت کا انتظار کرئے کیونکہ انکی عنایتوں کے بغیر پاکستان کی سیاست میں آج تک کچھ نہیں ہوا ماضی قریب میں میاں نواز شریف اور حال میں عمران خان انکی عنایتوں کی زندہ جاوید مثالیں ہیں۔ آخر میں انھوں نے بڑی سرکار کے تم پر خصوصی نظر وکرم کےلیئے دعا بھی فرمائی۔میں تمام احباب کی باتیں سن کر تمھیں کوئی صائب مشورہ دینے کا سوچ ہی رہا تھا کہ کل سرِ راہ بھٹو صاحب سے ملاقات ہوگئی مجھے دیکھتے ہی انھوں نے طنزاً کہا کیوں مفتی صاحب آخر تمھارا فرزند بھی تمھارے نقش و قدم پہ چل نکلا نہ؟ جو کام ماضی میں تم لوگوں سے مجھے ہٹانے کے لیئے لیا گیا تھا آج اس کام کے لیئے تمھارے بیٹے کو چنا گیا ہے۔ لشکر کشی اس نظام میں مزید دراڑیں نمودار کرئے گیعمران کو گھر بجھوا کر تمھارے فرزند کو بھی ڈیرہ اسماعیل خان کا راستہ دکھا دیا جائے گا آخر تم سے بہتر کون جانتا ہے ورنہ تم بحالی جمہوریت کی تحریک کے ساتھ ہوتے؟ نہیں نہ۔۔ اسے ہدایت کرو کہ بہتر ہے کہ عمران کے تین سال برداشت کرے کہیں ایسا نہ ہو کہ باقی عمر پچھتاوے میں گزرے ،آخر میں بھٹو گرجے اور بولے یاد رکھو مفتی اگر تمھارا بیٹا آلہِ کار بنا تو تاریخ تم دونوں باپ بیٹوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ برخوردار تمام باتوں اور اپنے تجربات کی بنیاد پر بس یہی تلقین کروں گا کہ جس نظام کے استحکام اور سدھارکی خاطر تم اسلام آباد کا قصد کر رہے ہو اسکی بقا کی ذمہ داری بھی تمھارے فرائض میں شامل ہے۔ جو غلطی مجھ سے ہوچکی تم نہ کرنا ورنہ کہیں تمھیں بھی میری طرح بحالیِ جمہوریت کی تحریکوں کا ہمسفر نہ بننا پڑ جائے۔ وسلام۔۔۔ دعاگو تمھارا والد۔ مولانا مفتی محمود