بزرگوں کا عالمی دن ،قیمتی اثاثہ اور ہم لوگو، زندگی رلاتی ہے۔۔۔ تحریر:عدیل ممتاز

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں چودہ دسمبرانیس سو نوے میں ایک قرارداد منظور ہوئی جس میں کہا گیاکہ ہرسال یکم اکتوبر کو بزرگ شہریوں کو عالمی دن کے طور پر منایا جائیگا اسطرح یکم اکتوبر انیس سو اکیانوے میں پہلی مرتبہ بزرگوں کا عالمی دن منایا گیابزرگوں کی حفاظت حکومت کی زمہ داری ہے انیس سو اکیانوے کے بعد ہرسال یکم اکتوبر کوبزرگوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے اس دن کا مقصد بزرگوں کی ضروریات ،مسائل اور تکالیف کو بیان کرنا ہے معاشرے کے ہر شہری کو بزرگ افراد کی طرف توجہ دلانا ہے مگر افسوس کہ یہ دن بھی خاموشی سے گزر جاتا ہے جس مقصد کے لیے یہ دن رکھا گیا مگر وہ مقصد ٹھیک طرح سے ادا نہیں کر پاتے بزرگ ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں یہ درخت کی مانند ہیں جن کے سائے

سے ہم استفادہ حاصل کر سکتے ہیں ایک دن سب کو بوڑھا ہونا ہے عالمی سطح پر ساٹھ سال سے زائدافراد ہر ماہ دس لاکھ بڑھ جاتے ہیں دنیا میں بزرگ افراد کی تعداد دس اعشاریہ آٹھ فیصد ہے انیس سو پچاس میں صرف تین ممالک کی آبادی ایک کروڑ سے زائد تھی جبکہ دو ہزار نو میں ان کی تعداد گیارہ ممالک ہو گئی پاکستان میں تیس فیصد بزرگ ہیں بزرگوں کی زندگی کے حوالے سے بہترین ملک سویڈن ہے جبکہ پاکستان بدترین ممالک میں تیسرے نمبر پر ہے پاکستان میں یکم اکتوبر کو مختلف تقریبات اور ورکشاپس کا انعقاد کیا جاتا ہے بزرگوں کی اہمیت کو عوام کے سامنے اجاگر کیا جاتا ہے مگر افسوس عملی اقدامات نہیں ہو پاتے پاکستان میں بزرگوں کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہسپتالوں میں بزرگوں کے لیئے کوئی علیحدہ سے سہولیات موجود نہیں جہاںوہ اپنا علاج کرا سکیں اور انتطار سے بچ سکیں کوئی مخصوص ٹرانسپورٹ کا انتظام نہیں جہاں پر بزرگ افراد مستفید ہو سکیں ۔ پینشن کے لیئے بھی بزرگوں کو قطار میں لگ کر انتظار کرناپڑتا ہے پاکستان میں کسی بھی ادارے میں بزرگوں کے لیے علیحدہ سے ڈپارنمنٹ نہیں بنائے گئے ہمارے ملک میں بزرگوں کے لئے بہت سی مشکلات ہیں دارلامان اور دارلاکفالہ بھرے پڑے ہیں جوان اولاد بڑھاپے میں اپنے والدیں کو بوجھ سمجھ کر ان کو اولڈ ہائو س چھوڑ آتے ہیں حالانکہ کہ والدین کی عزت حج کرنے کے مترادف ہے مگر اولاد بھول جاتی ہے کہ ایک دن ان کو بھی بوڑھا ہونا ہے پاکستان میں ہر پانچ میں ایک بزرگ کی پینشن ہے اولڈ ہائوس میں بزرگوں کی زمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے معمر اشخاص حکومت کے اچھے اقدامات کے منتظر ہوتے ہیں حکومت کو بزرگوں کی سہولیات کے لیئے اچھے سے اچھے

اقدامات کرنے چایئے ان کے کھانے پینے ، رہائش کا بندوبست کرنا چاہئیے سڑکوں پر مانگنے اور کھلے آسمان تلے سونے والے بزرگوں کا خیال رکھنا چایئے بزرگ افراد جوکہ اپنی زندگی کے تجربے سے ایک لائبریری کی حیثیت رکھتے ہیں بزرگوں کے علم سے عوام کو سیکھنا چایئے قرآن کریم اور احادیث میں بھی بزرگوں کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے حضرت محمدﷺ نے فرمایامیری امت کے بوڑھوں کی عزت میری عزت ہے ،تمہارے بڑوں کے ساتھ ہی تم میں خیروبرکت ہے جو چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کی عزت نہ کرے وہ ہم میں نہیں ۔اللہ سب پر رحم فرمائے اور کسی کا محتاج نہ کرے اللہ ہم کا حامی وناصر ہو آمین ۔۔