بارہ اکتوبر۔۔۔ کون محب وطن، کون غدار؟؟ تحریر: انجینئر اصغر حیات

12 اکتوبر 1999 کو ہم بہت چھوٹے تھے، ہم گاوں میں اپنے سکول جانے کیلئے جلدی اٹھ جایا کرتے تھے، ہم بہن بھائی صبح 6 بجے اٹھتے تھے، 7 بجے سے پہلے ہم سکول کیلئے نکل جایا کرتے تھے، 8 بجے سے پہلے سکول میں داخل ہونا لازمی تھا، ہمارے گھر سے سکول کی مسافت ایک گھنٹہ تھی، یہ راستہ ہم پیدل طے کرتے تھے، امی جان صبح ہمیں ناشتہ بنا کر دیتی تھیں اور ساتھ ریڈیو بھی سنتی تھیں، صبح 6 بجے کی خاص خاص خبروں کا آغاز کچھ یوں ہوا، ‘‘فوج نے ملک کا اقتدار سنبھال لیا ہے اور نواز شریف حکومت برطرف کردی گئی ہے’’ امی جان بے اختیار بولیں او خو نوازشریف کو بھی وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹا دیا ہے، کچھ روز تک یہ ہاٹ ٹاپک تھا، ہر کوئی اسی بارے میں بات کررہا تھا، سکول میں اساتذہ بھی کہہ رہے تھے

‘‘نواز شریف نے کشمیر کا سودا کرلیا، نواز شریف غدار ہے، اس نے امریکہ کے کہنے پر جیتا ہوا علاقہ بھارت کو واپس کردیا’’ ہر کوئی کہہ رہا تھا نواز شریف نے امریکہ میں جا کر ملکی غیرت کا سودا کیا، جنرل مشرف انتہائی محب وطن جنرل ہے اس نے فوج واپس بلانے سے انکار کیا تو نواز شریف اسے بھی ہٹانا چاہتا تھا، اب مشرف آگیا ہے وہ بھارت کو سبق سکھائے گا، وہ کشمیریوں کی آزادی میں حمایت کرے گا، اب کشمیر کو آزادی حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا’’ ہم نے نواز شریف کو غدار سمجھ لیا، چھوٹے تھے تو یہ بھی سمجھ لیا کہ پرویز مشرف کشمیریوں کی مدد کرے گا، کشمیر کو اب آزادی سے کوئی نہیں روک سکتا، وہ آگرا میں گیا تو بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی، ہمیں لگا یہ جھکنے والا نہیں ہے، چند ماہ بعد گیارہ ستمبر ہوگیا،اس کےبعد امریکہ نے افعانستان پر حملے کا منصوبہ بنایا، ہم نے دیکھا کہ اسی محب وطن مشرف نے امریکہ کو لاجسٹک سپورٹ کے نام پر بے پناہ مدد فراہم کی، امریکہ کو افعان بھائیوں پر حملے کیلئے اڈے فراہم کیے، اسی کھرے اور سچے مشرف نے کئی سو افعانیوں کو پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا، امریکہ کے کہنے پر فوج قبائلی علاقوں میں داخل کی اور ایک نہ ختم ہونے والی جنگ شروع کردی، ہم نے دیکھا کہ اسی نہ جھکنے والے مشرف نے امریکہ کو ڈراون حملوں کی اجازت دی، ڈراون حملوں نے ہزاروں معصوموں کی جانیں لیں، قبائلیوں کو ریاست کیخلاف نفرت پر اکسایا، ہم نے اسی بہادر مشرف کو سارک سربراہ اجلاس میں اپنی سیٹ سے اٹھ کر بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واچپائی کی نشست پر جاکر سلام کرتے دیکھا، جب واچپائی مذاکرات سے انکاری تھا تو مشرف صاحب کو بار بار مذاکرات کا راگ الاپتے دیکھا،

پھر اسی مشرف کو اعلان اسلام آباد پر دستخط کرتے دیکھا،تسلیم کرتے دیکھا کہ جہادی ہمارے کنٹرول میں ہیں، اسی مشرف کے دور میں لائن آف کنڑول پر باڑ لگتے اور کشمیر کی تقسیم کو واضح ہوتے دیکھا، اسی کشمیر کے حامی مشرف کے دور میں حریت کانفرنس کو تقسیم ہوتے دیکھا، اسی کے دور میں اداروں کی بے توقیری دیکھی، چیف جسٹس کو معزول ہوتے دیکھا، اسی مشرف کے دور میں بگٹی کا قتل اور بلوچستان میں لگنے والی آگ کو دیکھا، معاہدہ ہونے کے باوجود امریکہ کے دباو پر لال مسجد آپریشن میں چھلنی ہونے والے مسجد کے مینار و ممبر کو دیکھا، وہ آج اشتہاری ہے، بیرون ملک بیٹھ کر بیان داغ لیتا ہے لیکن ہے مرد کا بچہ، اس بیرون ملک کئی ملین پاونڈ کے فلیٹس ہیں، اندرون و بیرون ملک اربوں روپے کی پراپرٹی ہے لیکن وہ کرپٹ نہیں ہے، کشمیر میں باڑ لگانے کی اجازت دینے والا آج کشمیر پر بھی بات کرلیتا ہے کیونکہ وہ محب وطن ہے، اس کے دور کے کچھ اچھے کام بھی ہونگے لیکن شوکت عزیر مجھے نہیں بھولتا، پیرا شوٹ سے آیا اس ملک کا وزیراعظم بنا، جب دور مکمل ہوا تو واپس جاکر غیر ملکی شخص کے ہاں ملازمت اختیار کرلی، شوکت عزیز کو کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ اس کو لانے والا محب وطن ہے۔