آزادی مارچ ۔۔۔تحریر: عمر منہاس

جے کے ایل ایف (جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ) کے آزادی مارچ نے سیز فائر لائن سے چند میل کے فاصلے پر دریائے جہلم کے کنارے جسکول کے مقام پرمرکزی شاہراہ پر انتظامیہ کی جانب سے روکے جانے کے بعدبظاہر ایک پرامن دھرنے کی شکل اختیار کر رکھی ہے۔ یہ شاہراہ مظفر آباد کو سری نگرسے چکوٹھی کراسنگ پوائنٹ کے ذریعے ملاتی ہے۔ اس دھرنے میں آزاد کشمیر کے طول و عرض سے ہزاروں کی تعداد میںافراد شریک ہیںجن کا مسلسل اصرار ہے کہ پولیس رکاوٹیں ختم کرے اور انہیں سیز فائرلائن کراس کرنے دے تاکہ وہ سری نگر جاسکیں جہاں ان کی مائیں، بہنیں، بیٹیاں،بیٹے اور بھائی گزشتہ 68دنوں سے جاری کرفیو، لاک ڈائون اور کمیونیکشن بلیو کیڈ کاشکار ہیں۔اس مارچ کاآغاز پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر کے

ضلع بھمبر سے ہوا تھا۔جو کوٹلی، راولاکوٹ اور باغ سے ہوتا ہوا مظفرآبادپہنچا جہاں سے مارچ کے شرکاء سیز فائرلائن کی طرف بڑھے۔مظفر آباد سے چناری تک قافلے کا جگہ جگہ پرتپاک استقبال ہوا۔شرکاء پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جاتی رہیں۔ پانی، شربت اور بعض مقامات پر فروٹ سے شرکاء کارواں کی تواضع ہوتی رہی ۔ جہلم ویلی کے اطراف کے گائوں سے خواتین، بچے اور بوڑھے نم آنکھوں اور بلندہوتے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ شرکاء مارچ کی سلامتی کے لیے دعاگو نظر آئے۔جسکول میں انتظامیہ کی جانب سے جس مقام پر اس مارچ کو خاردار تاریں اور کنٹینرز لگا کر روکا گیا ہے یہ وہی مقام ہے جہاں 1992میں بھی لبریشن فرنٹ کے مارچ کو روکا گیا تھا۔مسئلہ کشمیر کو پرامن طریقے سے حل کرنے اور جنگ بندی لائن کو روندنے کی کوششیں دونوں طرف سے کئی بار کی گئیں لیکن ہر بار راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ اس سلسلے کی پہلی بڑی کوشش جون 1958میں ہوئی تھی۔جب جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے اس وقت کے ایک طاقت ور لیڈر چوہدری غلام عباس نے اعلان کیا کہ وہ 27جون کو جنگ بندی لائن توڑ کر مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو ں گے۔ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ ان کے ساتھ دو لاکھ سے زائد مجاہدین ہیں جوان کے ساتھ جنگ بندی لائن عبور کریں گے ۔ان کے اس اعلان سے پاکستان اور بھارت میں کھلبلی مچ گئی۔پاکستانی صد ر سکندر مرزا نے چوہدری غلام عباس سے نتھیا گلی (مری) کے ایک ریسٹ ہائوس میں طویل مذاکرات کیے اور ا ن پر واضح کیا کہ یہ ایک خطرناک مہم جوئی ہے جو پاکستان اور بھارت کو جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔اس سلسلے میں ایوب خان کی تاریخی ڈائری کے مندرجات بڑے سنسنی خیز ہیں۔ انہوں نے لکھا

کہ’یہ جان کر میرے پائوں تلے کی زمین ہی نکل گئی کہ صدر سکندر مرزا نے یہ ہدایت کی ہے کہ جب تک چوہدری غلام عبا س اور ان کے ساتھی جنگ بندی لائن پر نہ پہنچ جائیںان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی جائے اور جب وہ وہاں پہنچ جائیں تو فوج بغیر طاقت استعمال کیے انہیں گرفتار کرلے۔ میں نے اسی وقت صدر سکندر مرزا کو ٹیلی فون کرکے اس طفلانہ فیصلے پراحتجاج کیااور مطالبہ کیا کہ اگر کوئی کاروائی کرنی ہے تو آزادکشمیر یا پاکستان کے سول حکام کے ذریعے کی جائے۔ اس پر کابینہ کا اجلاس ہوا اور میری سفارشات کو منظور کرتے ہوئے یہ اعلان کیا گیاکہ حکومت پاکستان جنگ بندی لائن کو توڑنے کی ہر گز اجازت نہیں دے گی۔کیونکہ اس عمل سے تنازعہ کشمیر کے پرامن تصفیہ میں رکاوٹ پیدا ہو جائے گی۔ ‘

حکومت پاکستان کے اس اعلان کے ساتھ ہی اس وقت کے آزاد کشمیر کے صدر سردار ابراہیم خان نے یہ بیان جاری کیا کہ چوہدری غلام عباس کے اعلان کے پیچھے سیاسی مقاصد ہیں ۔اس لیے جنگ بندی لائن کی خلاف ورزی کی اجازت بالکل نہیں دی جائے گی۔اس حوالے سے بیانات کا یہ سلسلہ ابھی جاری تھا کہ ایوب خان نے اکتوبر میں مارشل لاء لگا دیا اور جنگ بندی لائن پار کرنے کی کہانی وہیں رک گئی۔لائن آف کنٹرول کے بارے آج بھی پاکستان کی پالیسی تقریباًوہی ہے جو سکندر مرزا کے دور میں تھی۔اسی پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم نے سیز فائر لائن عبور کرنے کی کسی بھی کوشش کو کشمیریوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف قرار دیتے ہوئے ایک ٹوئیٹر پیغام میں کہا تھا کہ میں مقبوضہ کشمیر میں

جاری دو ماہ سے کرفیو میں گھرے کشمیریوں کے حوالے سے آزاد کشمیر کے لوگوں میں پایا جانے والا کرب سمجھ سکتا ہوںلیکن اہل کشمیر کی مدد یا جدوجہد میں ان کی حمایت کی غرض سے جو بھی ایل او سی عبور کر ے گا وہ بھارتی بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلے گا۔۔بقول صحافی دوست جلال الدین مغل کے کہ پیغام واضح ہے کہ اپنی حد میں رہنا ۔۔۔ہم تمہیں روکیں گے اور ہر حال میں اور ہر طریقے سے روکیں گے۔۔ ٹھیک ہے ہندوستان اور پاکستان کی اپنی اپنی مجبوریاں ہیں۔ کیونکہ انہوں نے شملہ معاہدہ کی شق چار کے تحت یہ اتفاق کر رکھا ہے کہ جموں و کشمیر میں 1948کی سیز فائر لائن (جسے شملہ معاہد ہ کے تحت کنٹرول لائن کا نام دیا گیا ) کا احترام کیا جائے گا۔ کوئی بھی فریق یک طرفہ طور پر اس میں ردوبدل نہیں

کر ے گا۔ کسی بھی معاملے پر باہمی اختلافات اور قانونی تشریحات میں اختلاف رائے کے باوجود دنوں فریق اس لکیر کی خلاف ورزی کرنے یا طاقت کے استعمال سے اجتنا ب کریں گے۔ ۔۔لیکن جہاں تک ریاست جموں و کشمیر کی عوام کا تعلق ہے تو انہوں نے اپنی دھرتی کے سینے پر اس خونی لکیر کو کبھی بھی تسلیم نہیں کیا ۔ان کا یہ عمل بھارتی بیانیہ کیسے ہو سکتا ہے۔انہیں سیز فائر لائن عبو ر کرنے کا حق اقوام متحدہ نے دے رکھا ہے ۔اقوام متحدہ کی 1948کی قرارداد کے پیرا نمبر دو میں صاف صاف لکھا ہوا ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو سیز فائر لائن کے آر پار آزادانہ نقل و حمل کی اجازت ہو گی ۔ خود ہندوستان اور پاکستان بھی اس قرارداد پر مہر ثبت کر چکے ہیں تو جناب وزیر اعظم عمران خان صاحب!آپ انہیں کیوں روک رہے ہیں ۔ جناب وزیر اعظم! آپ کو اپنا شملہ معاہدہ عزیز ہے اور ہمیں اپنی آزادی پیاری ہے۔۔۔!اللہ پاک شرکاء مارچ کو اپنے حفظ و امان میں رکھیں اور اپنے مقاصد میں کامیاب فرمائیں(آمین)۔