حکومت کے حق حکمرانی کو تسلیم نہیں کرتے،وزیراعظم عمران خان کو ہرصورت مستعفی ہونا ہوگا

راولپنڈی(نیوز ڈیسک)مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ فوج غیرجانبدار ہونے کا فیصلہ کرچکی ہے، سیاسی معاملات کو سیاسی سطح پر ہی حل کیا جائے گا،حکومت کی جانب سے مذاکرات کیلئے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا،تحریک چلتی ہے تو اس کے مختلف مراحل ہوتے ہیں۔راولپنڈی میں مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پوری قوم ناجائز اور نااہل حکومت کو چلتا کرنے کیلئے متحد اور اسلام آباد مارچ کیلئے پرعزم ہے،یوم سیاہ کے طور پر کشمیریوں کیساتھ اظہار یکجہتی کی جائے گی اور اسلام آباد مارچ کا آغاز ہوگا، آزادی مارچ اسلام آباد میں 31 اکتوبر کو داخل ہوگا، سیاسی جماعتوں اور مختلف شعبہ جات زندگی سے تعلق رکھنے والوں کا حمایت پر شکرگزار ہوں۔انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسے موقع کم آئے جب حکومت کیخلاف قومی سطح پر اتنی یکجہتی پائی گئی ہو، آئین و قانون کے دائرے میں رہتے

ہوئے کسی بھی ادارے سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے آرہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت ہوش کے ناخن لے، ہم کسی سے ٹکراؤ نہیں چاہتے،تشدد کا راستہ اختیار کیا تو ہم بھی انتقام لینے کی صلاحیت کا استعمال کرینگے،ہمارے پُرامن جذبات کو کوئی ادارہ کمزوری نہ سمجھے،کسی کو ووٹ چوری کرکے قوم پر مسلط ہونے کا کوئی حق نہیں،پہلے دن سے ہی اس حکومت کے حق حکمرانی کو تسلیم نہیں کرتے،موجودہ حکومت کو ہر صورت مستعفی ہونا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ ملکی معیشت تباہ کردی گئی ہے،مہنگائی نےعام آدمی کی کمر توڑ دی ہے،نوجوان نسل کو ڈیڑھ کروڑ نوکریوں کی امید دے کر 15 لاکھ افراد کو بے روزگار کیا گیا، ملکی تاریخ میں کامیاب ترین ہڑتال تاجر برادری نے کی اور تاجر برادری ایک بار پھر ملکی سطح پر ہڑتال کی جانب جا رہی ہے کیوں کہ تاجروں کے جائز مطالبات تسلیم نہیں کئے جا رہے۔