خشکی پر بھی زندہ رہنے والی مچھلی دریافت، وائلڈ لائف ماہرین نے مچھلی کودیکھتے ہی مارنے کی ہدایت کردی

تبلیسی(نیوز ڈیسک)جارجیا کے وائلڈ لائف ماہرین نے ایسی مچھلی دریافت کرلی جو پانی کے بغیر بھی زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔جارجیا ڈیپارٹمنٹ آف نیچرل ریسورسز کے وائلڈ لائف ماہرین کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ینیٹ کاؤنٹی کے تالاب سے سانپ کے سر والی (اسنیک ہیڈ) مچھلی پکڑی۔امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ پہلا موقع تھا کہ جب مچھلی کی عجوبہ نسل ماہرین کے ہاتھ لگی، جارجیا کے ماہرین نے مچھلی کی افزائش کو روکنے کی ہدایت کردی۔رپورٹ مطابق لمبی اور پتلی مچھلی پانی کے اندر مختلف جانداروں کے لیے خطرناک ہوتی ہے کیونکہ انہیں بے دخل کرتی ہے اور اس کی افزائش بھی تیزی کے ساتھ ہوتی ہے، پانی کے اندر یہ مچھلی غذائی اور ماحولیاتی نظام کو مستقل طور پر بدلنے کی صلاحیت

بھی رکھتی ہے۔تیز دھار دانتوں کی مالک مچھلی کے گلپھڑے پھیپھڑوں سے ملتے جلتے ہیں جن کی مدد سے یہ ہوا میں آسانی کے ساتھ سانس لیتی ہے اور خشکی پر گھوم بھی سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مچھلی اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے پانی سے نکل کر زمینی راستے سے سمندر ، تالاب یا ندی میں جا سکتی ہے، مچھلی بغیر پانی کے چار دن تک زندہ رہ سکتی ہے جبکہ کیچڑ میں اُس کی زندگی طویل ہوجاتی ہے۔ جنگلی حیات پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ مچھلی چھوٹے جانوروں جیسے چوہوں وغیرہ کو بھی اپنی خوراک بناتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مچھلی کی افزائش بنیادی طور پر مشرقی ایشیا کے سمندر میں ہوتی ہے، امریکی ادارے نے اسنیک ہیڈ مچھلی کو جنگلی حیات کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے فوراً مارنے کی ہدایت بھی کی۔