دورہ امریکہ سے واپسی پر عمران خان کا خصوصی طیارہ خراب نہیں ہوا تھا، بلکہ انھیں واپس بلایا گیا تھا، اہم انکشافات

اسلام آباد(نیوزڈیسک) وزیراعظم عمران خان سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے خصوصی طیارے پر امریکہ روانہ ہوئے تھے اور امریکہ سے وطن واپسی بھی اسی طیارے پر ہونا تھی لیکن مبینہ فنی خرانی کی وجہ سے وزیراعظم عمران خان کے طیارے کا رُخ واپس نیویارک موڑ لیا گیا تھا جہاں انہوں نے ایک رات اور قیام کیا جس کےبعد وہ کمرشل فلائٹ سے وطن واپس پہنچے۔اس حوالے سے میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے حالیہ امریکا کے دورے کے بعد عمران خان کا خصوصی طیارہ اُنہیں اور ان کے ساتھیوں کو لے کر پاکستان کی طرف پرواز کر چکا تھا۔تاہم طیارے میں وزیراعظم کو واپس نیو یارک

آنے کی درخواست کی گئی جس کے متعلق بعد میں اس طرح کی خبریں بھی آئیں کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان جن کے ذاتی طیارے میں وزیراعظم سفر کر رہے تھے انہوں نے وزیراعظم سے ناراضی کی بنا پر فوری طور پر طیارہ چھوڑنے کا کہا یہ بات اس لیے مضحکہ خیز لگتی ہے کہ اگر سعودی ولی عہد ناراض ہو گئے تو پھر وزیراعظم نے واپسی کے لیے سعودی ائیر لائن کا ہی کیوں انتخاب کیا؟۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کو واپس امریکا بلا کر انہیں پہلے سعودی عرب اور ایران کے مابین بہتر تعلق کی راہ ہموار کر نے کے لیے کردار ادا کرنے کو کہا گیا اس کے بعد اگر ایران کی نیت پر امریکا کو شک نہیں ہوتا اور سعودی عرب ایران کے تعلقات حقیقی بہتری کی طرف چلتے ہیں تو وزیراعظم پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان بھی اپنا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔وزیراعظم سے امریکی اعلیٰ حکام کی نیو یارک میں ملاقات ہوئی جس کے فوری بعد وہ سعودی ائیر لائن کی کمرشل پرواز سے جدہ پہنچے۔عمران خان کی شاہی لاؤنج میں اہم سعودی شخصیت سے ملاقات ہوئی۔جس میں سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کا باضابطہ طور پر درخواست کی کہ وہ فوری طور پر ایران کے ساتھ تعلقات کی بہتری میں سعودی عرب کی مدد کریں۔وزیراعظم نے وطن پہنچتے ہی چین کے دورے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ چینی قیادت کو اعتماد میں لینا چاہتے تھے۔