حکومت کا فضل الرحمان، بھائیوں اور قریبی ساتھیوں کے پرانے کیسزکھولنے کا فیصلہ، مولانا کی ممکنہ گرفتاری کا آپشن بھی زیرغور

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ اور اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس کے لیے جمیعت علمائے اسلام کے 40 ہزار افراد اکٹھا کرنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں،جب کہ وفاقی حکومت نے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ سے نمٹنے کے لیے حکومت عملی تیار کر لی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت نے وزیر اعلیٰ،گورنر،وزیر قانون،وزراء اور اتحادیوں سے تجاویز طلب کر لی ہیں۔سربراہ جے یو ایف آئی مولانا فضل الرحمن کی ممکنہ گرفتاری بھی زیر غور ہے۔بتایا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن، بھائیوں اور قریبی ساتھیوں کے پرانے کیسز کھولنے کا بھی امکان ہے۔حکومتی ذرائع ڈیرہ اسماعیل خان میں زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی نیب سے تحقیقات کروانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔حکومت نے

ان مدارس کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں جہاں سے مولانا فضل الرحمن کو مدد مل سکتی ہے۔جب کہ مولانا فضل الرحمن کا ساتھ دینے والی سیاسی جماعتوں،کارکنان اور رہنماؤں کی فہرست بھی طلب کر لی گئی ہیں۔جب کہ دوسری جانب مارچ کو آرگنائز کرنے والے کئی مقامی رہنما ممکنہ نظربندی اور نقص امن عامہ کے تحت گرفتاری سے بچنے کے لئے روپوش ہو گئے ہیں۔اس حوالے سے اعلیٰ حکومتی حکام نے بتایا کہ وفاقی حکومت اورخیبر پختوانخواہ اور پنجاب کی حکومتوں کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کی متواتر اپ ڈیٹس موصول ہو رہی ہیں۔ ٹاپ سول انٹیلی جنس ایجنسی اور صوبائی سول انٹیلی جنس ایجنسی کی رپورٹس پر مبنی ڈسپیچ حکومت کوموصول ہوگئے ۔ سکیورٹی ادارے جمعیت علمائے اسلام (ف) کو واچ کر رہے ہیں تاکہ مارچ کی آڑ میں بڑی ہنگامہ آرائی یا گڑ بڑ نہ پھیلانے کو یقینی بنایا جا سکے ۔