پاکستان کی معروف یونیورسٹی میں خفیہ کیمروںکےذریعےطلباء کو بلیک میل کیے جانے کا انکشاف

کوئٹہ (نیوز ڈیسک) بلوچستان کی یونیورسٹی میں طلباء کو بلیک مل کرنے اور ہراساں کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے سائبر کرائم ٹیم نے گذشتہ ماہ سکینڈل بے نقاب کیا تھا جس میں یونیورسٹی کے طالب علموں کو ویڈیوز کے ذریعے سے بلیک میل کیا جاتا تھا۔ بلیک میلنگ کے لیے یونیورسٹی بلاکس میں خفیہ کیمرے لگائے گئے تھے۔ذرائع ایف آئی اے کے مطابق اس سلسلے میں یونیورسٹی سیکیورٹی برانچ کے افسر اور سرویلنس انچارچ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔سیکیورٹی سرویلنس سیکشن اہلکاروں نے طلبا کو بلیک میل کیا۔گرفتار اہلکاروں سے ہراساں کرنے اور بلیک ملینگ کی ویڈیوز برآمد ہوئی تھیں۔ یونیورسٹی کے 200اہلکاروں ملازمین سے تفتیش جاری ہے۔ ایف آئی اے کی کاروائی کے بعد کئی متاثرہ لڑکیوں سے رجوع کیا۔اس متعلق تفتیش کی جا رہی ہے کہ اسکینڈل میں یونیورسٹی کے اعلیٰ عہدیدار تو ملوث نہیں؟۔وائس چانسلر کے اسٹاف آفیسر سے بھی

تفتیش کے دوران نازیبا مواد برآمد ہوا ہے۔ بلیک میل کیے گئے طلبا میں زیادہ تعداد طالبات کی ہے۔واضح رہے کہ تعلیمی اداروں میں اس سے قبل بھی اساتذہ کی طرف سے طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اسلام آباد کے ایک پرائیویٹ کالج میں طالبات نے بیالوجی کے ایک استاد پر دوران امتحان جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔۔کالج کی ایک طالبہ نے فیس بک پر ایک پوسٹ کے ذریعے بتایا کہ ان کے بیالوجی کے پروفیسر نے پریکٹیکل کے دوران ان سے غیر اخلاقی گفتگو کی اور جنسی ہراساں کیا جس پر وہ خاموش نہیں بیٹھ سکتی۔ طالبہ نے لکھا کہ جب میں اپنا پریکٹیکل دینے جا رہی تھی تو مجھے میری ساتھیوں نے خبردار کیا تھا کہ ممتحن ٹھیک نہیں ہیں یہ لڑکیوں کو ہراساں کرتے ہیں۔تعلیمی اداروں میں اس طرح کے واقعات رپورٹ ہونا افسوسناک ہے ایسے میں تعلیمی اداروں کو ایسا نظام بنانا چاہئیے جس میں تمام استادوں کی سخت نگرانی کی جائے۔