ترکی باز نہ آیا تو میں اس کو تباہ و برباد کرنے کیلئے تیار ہوں،ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن(نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی شمال مشرقی شام میں ترک حملے کے جواب میں موجودہ اور سابق ترک عہدیداروں پر پابندیاں عائد کرنے کا ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کریں گے۔ٹرمپ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ہم ترکی کے ساتھ 100 ارب ڈالر کے تجارتی معاہدے پر بات چیت بند کردیں گے اور ترک اسٹیل کی درآمدات پر ڈیوٹی 50 فیصد تک بڑھا دیں گے۔امریکا ان افراد پر سخت اضافی پابندیاں عائد کرے گا جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہوسکتے ہیں ، جنگ بندی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں اور پناہ گزینوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے

سے روک سکتے ہیں۔انہوں نے مزید لکھا کہ اگر ترکی کے رہنما اس خطرناک اور تباہ کن راستے سے چلنے سے باز نہیں آتے تو میں ترکی کی معیشت تباہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔انہوں نے پناہ گزینوں کی زبردستی وطن واپسی ، یا شام میں امن ، سلامتی یا استحکام کو خطرے مین ڈالنے پربھی خبردار کیا اور کہا کہ اس کے نتیجے میں مالی پابندیوں اور امریکا میں داخلے پرپابندی سمیت دیگر سنگین اقدامات کیے جائیں گے۔امریکا نے جنگ زدہ ملک شام میں اتحادی کرد فورسز پر حملے کے بعد ترکی کے وزرا اور اداروں پر پابندیاں عائد کردیں۔خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی نائب صدر مائیک پنس اور وزیر خزانہ اسٹیو منوچن نے وائٹس ہاؤس کے باہر انقرہ پر نئی پابندیوں کا تذکرہ کیا۔وزیر خزانہ اسٹیو منوچن نے کہا کہ واشنگٹن نے تین ترک وزرا اور ان کے محکمہ دفاع اور توانائی پر پابندی عائد کردی۔انہوں نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے فون پر رابطہ کیا اور شام میں جنگی بندی اور ترک فورسز کی پسپائی کا مطالبہ کیا۔نائب امریکی صدر مائیک پنس نے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے پابندی سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیے اور مجھے ہدایت کی کہ وفد کے ہمراہ ترکی میں ترک اور کردش کے مابین مذاکرات کی سربراہی کروں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے اسٹیل کے ٹیرف میں اضافے اور ترکی کے ساتھ 100 ارب ڈالر پر مشتمل تجارتی معاہدے پر مذاکرات کو بھی منسوخ کرنے کا حکم دے دیا۔اس سے قبل امریکی صدر نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ’میں بتدریج انقرہ کی معیشت کو برباد کردوں اگر ترک رہنما خطرناک اور تباہ کن راستہ اختیار کرنے سے باز نہیں آئیں گے‘۔