نہ لاٹھی چارج ہوگا اور نہ ہی تصادم، دھرنے والوں کیساتھ کیسے نمٹا جائے گا، وزیراعظم عمران خان کی حکمت عملی سامنے آگئی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئرصحافی و تجزیہ کار مبشر لقمان نے وزیراعظم عمران خان سے ہونے والی ملاقات کا احوال بتا دیا۔ انہوں نے کہا کہ میری وزیراعظم عمران خان سے بہت تفصیلی ملاقات ہوئی جس میں مولانا فضل الرحمان کے لانگ مارچ اور دھرنے کی بھی بات ہوئی جس پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ کرنا اُن کا حق ہے۔لیکن مؤقف اصولی ہونا چاہئیے جو فی الوقت نظر نہیں آرہا۔ مبشر لقمان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے میری اس بات سے اتفاق کیا کہ مولانا فضل الرحمان کی ذاتیات پر حملے نہیں ہونے چاہئیں ۔ مبشر لقمان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے مجھے یقین دہانی

کروائی کہ میں کابینہ اجلاس میں بھی سب کو یہ بات کہوں گا کہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور دیگر رہنماؤں کی ذاتیات پر حملے نہ کیے جائیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو لگ رہا ہے کہ احتساب کا عمل اب مزید سخت ہو رہا ہے اور ہر ایک کے گرد اس کا گھیرا تنگ ہونے والا ہے۔ اسی لیے مولانا فضل الرحمان ایک سیاسی اسپیس لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاکہ وہ بعد میں کہہ سکیں کہ میں نے ملک جام کیا اسی لیے میرے خلاف مقدمات کُھلے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حالانکہ پہلے سے ہمارے ادارے پہلے سے ہی اس پر کام کر رہے ہیں ۔مبشر لقمان نے کہا کہ میں نے وزیراعظم کو ڈرانے کی کوشش کرتے ہوئے ان سے کہا کہ مولانا کا دھرنا بڑا ہو گا اور لانگ مارچ بھی اثر انداز ہو سکتا ہے جس پر وزیراعظم نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ اگر اتنے ہی مقبول ہوتے تو اگر قومی اسمبلی کی نہیں تو کم از کم صوبائی اسمبلی کی ہی کوئی نشست جیت جاتے۔ اُن کے اپنے ہم مسلک والے بھی جانتے ہیں کہ مولانا کس وجہ سے یہ سب کر رہے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ہم مولانا سے ڈائیلاگ کریں گے اور ان کے مطالبہ کو دیکھیں گے اگر ان کا مطالبہ جائز ہوا تو اس پر غور کیا جائے گا ورنہ دوسری صورت میں مولانا فضل الرحمان کو سمجھایا جائے گا۔