پنجاب میں وسیم اکرم پلس کی چھٹی! وزیراعظم عمران خان دھرنے سے قبل کونسا سرپرائز دینے والےہیں،جانئے تفصیلات

لاہور(نیوز ڈیسک) مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کو لے کر حکومت میں کافی بے چینی پائی جاتی ہے۔خاص طور پنجاب میں بتایا جا رہا ہے کہ تاجر، بیوروکریسی اندر کھاتے اس آزادی مارچ کو سپورٹ کرے گی کیونکہ وہ بھی احتساب کے عمل کے خلاف ہے جب کہ دوسری جانب پنجاب میں حکومت کی بیڈ گورننس ہے۔اسی حوالے سے تجزیہ پیش کرتے ہوئے ۔سینئرصحافی ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ دھرنا دینے والے بس ایک بات سے گھبراہٹ کا شکار ہیں کہ اگر ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوئے تو عمران خان زیادہ طاقتور بن کر ابھرے گا۔میرا نہیں خیال کہ عمران خان بہت طاقتور بن کر ابھرے گا۔کیونکہ اب جو صورتحال نظر آ رہی ہے جھگڑا اتو ہر کہیں ہو گا۔میرا یہ بھی خیال ہے کہ کابینہ میں بڑی تبدیلیاں ہونے والی ہیں۔وزراء اعلیٰ کو بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے اور عثمان بزدار کو بھی عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے،وسیم اکرم پلس کو بھی

ہٹایا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ بھی کابیبہ میں بڑی تبدیلیاں کی جائیں گی کیونکہ بابر اعوان سے انفارمیشن منسٹری کا وعدہ کیا گیا تاہم فی الحال یہ فیصلہ موخر کر دیا گیا ہے۔خیال رہے کہ عثمان بزدار کی بطور وزیراعلیٰ پنجاب تبدیلی کے لیے وزیراعظم عمران خان پر بہت دباؤ ڈالا گیا ہے تاہم وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ عثمان بزدار پر اعتماد کا اظہار کیا۔تاہم اگر عمران خان دھرنے سے قبل پنجاب کابینہ میں کسی اہم تبدیلی کا اعلان کرتے ہیں خاص طور اگر وہ عثمان بزدار کو عہدے سے ہٹاتے ہیں تو یقینا اس کا پنجاب پر اثر پڑے گا اور پنجاب میں جو لوگ حکومت کی کارگردگی پر ناراض ہیں ان کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے اور اس کا براہ راست اثر اپوزیشن کے بنائے گئے دھرنے اور آزادی مارچ کے ماحول پر بھی پڑ سکتا ہے۔جب کہ دوسری جانب بتایا گیا ہے وزیراعظم عمران خان کابینہ میں 8 سے 9 وزارتوں میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔