اگر میرے والد کو کچھ ہوا تو ذمہ دار حکومت ہوگی، بلاول بھٹو

کراچی(نیوز ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ریاست میرے والد کی گرتی صحت کو میری پارٹی پر دباؤ بڑھانے کی خاطر استعمال کر رہی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے ایک بیان میں بلاول بھٹو نے کہا کہ میرے والد کو اگست کے مہینے سے کسی فردِ جُرم کے بغیر قید کیا گیا ہے اور اس دوران انہیں طبی سہولیات بھی میسر نہیں کی جا رہیں۔انہوں نے ٹویٹر بیان میں مزید کہا کہ خود حکومت کے سرکاری ڈاکٹروں نے سابق صدر آصف علی زرداری کی خراب صحت سے متعلق رپورٹس دیں، ان رپورٹس میں صدر زرداری کو جیل میں طبی سہولیات فراہم کرنے اور اسپتال منتقل

کرنے کی سفارشات بھی کیں۔ اس کے باوجود آصف زرداری کو طبی سہولیات نہ دے کر انہیں ان کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔یہاں تک کہ اسپتال تک بھی نہیں لے جایا گیا، بلکہ انہیں اپنی انسولین اور دیگر ادویات رکھنے کے لیے فریج تک مہیا نہیں کی گئی۔بلاول بھٹو زرداری نے خبردار کیا کہ اگر خدانخواستہ میرے والد کو کچھ ہوا تو میں اس حکومت کو ذمہ دار سمجھوں گا،ان تمام اوچھے حکومتی ہتھکنڈوں کے باوجود ہم اپنے اصول اور جمہوری جدوجہد پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سینیٹر رضاربانی کے بلامقابلہ انٹر پارلیمنٹری یونین کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن منتخب ہونے پر مبارک باد دی ہے۔ایک بیان میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سینیٹر شیری رحمان کو بھی انٹرپارلیمنٹری یونین کی قائمہ کمیٹی کا رکن بننے پر مبارک باد دی۔ انہوں نے کہاکہ پی پی پی نے بدترین کردارکشی کا شکار ہونے کے باوجود ملک کو بہترین پارلیمنٹرینز دئیے۔ بلاول بھٹو نے کہاکہ انٹرپارلیمنٹری یونین میں جیالوں کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پی پی کے آئین ساز دنیا کے بہترین پارلیمنٹرینز میں سے ہیں۔