لاہور کی سڑکوں پر لڑکیوں کیساتھ ساتھ لڑکے بھی جسم فروشی میں ملوث

لاہور (ویب ڈیسک) لڑکیوں کے ساتھ ساتھ لڑکوں کا بھی جسم فروشی میں ملوث ہو نے کا انکشاف کیا گیا ہے۔اس حوالے سے ایک پرگرام کے دوران حیران کن انکشافات سامنے لائے گئے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ لاہور کی معروف سڑکوں پر لڑکے مساج سنٹر کی آڑ میں کھڑے ہوتے ہیں۔لڑکوں کو مساج سینیٹر کے نام پر لے کر جایا جاتا ہے جہاں جانے کے بعد غلط کام کیے جاتے ہیں۔ان لڑکوں کی عمریں 18 سے 20سال بتائی گئی ہیں۔جبکہ اس غلیظ دھندے میں ملوث کچھ لڑکوں کی عمریں 17 سال سے بھی کم بتائی گئی ہیں۔ان لڑکوں نے سڑکوں پر خاص پوائنٹس بنائے ہوتے ہیں جس کے بعد گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر بیٹھے لوگ انہیں بک

کر کے لے جاتے ہیں۔اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ایک لڑکے نے کہا کہ مجھے یہ کام کرتے ہوئے دو ماہ ہو گئے ہیں،میں نے یہاں پر چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی دیکھا ہے جو مالش کرنے کے نام پر کھڑے ہوتے ہیں۔ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ہماری گھریلو مجبوریاں ہیں جس وجہ سے ہم یہ کام کرنے پر مجبور ہیں۔جسم فروشی میں ملوث یہ لڑکے رات 8 بجے سے لے کر صبح پانچ بجے تک موجود ہوتے ہیں۔دلچسپ بات تو یہ ہے کہ لڑکے اس کام کے لیے جہاں کھڑے ہوتے ہیں اس کے پاس ہی پولیس اسٹیشن ہے تاہم سب کو مساج سنٹر کا تاثر دیا جاتا ہے۔ایک لڑکے کا کہنا ہے کہ میں تعلیم بھی حاصل کر رہا ہوں اور ساتھ ساتھ یہ کام کر رہا ہوں،میں بہن بھائیوں کا پیٹ پالنے کے لیے ہلکا پھلکا میک اپ کر کے یہاں کھڑا ہو جاتا ہوں۔لڑکے کا مزید کہنا ہے کہ میں اس کام سے روزانہ دو سے تین ہزار کما لیتا ہوں جس سے سکول اور اکیڈمی کے فیس ادا کرتا ہوں اور گھر بھی چل رہا ہے۔جب کہ دوسری جانب اس انکشاف کے بعد پولیس کی کارگردگی پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سارا کام پولیس کو پتہ ہوتا ہے اور وہ اس کے پیسے وصول کرتے ہیں۔