فضل الرحمن سے مذاکرات کیلئے حکومت نے نئی حکمت عملی بنالی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کو روکنے کے لیے حکومت نے نئی حکمت عملی بنا لی۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ روز مولانا فضل الرحمن سے مذاکرات کے لیے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں چار رکنی مذاکراتی کمیٹی بنائی تھی،ذرائع کے مطابق اجلاس میں تحریک انصاف کی مذاکراتی ککمیٹی میں چاروں صوبوں کے پارٹی نمائندے شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔لیکن اب کمیٹی میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی،اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر،اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ اور اسد عمر کو بھی شامل کیے جانے کا امکان ہے۔تاہم کمیٹی میں نئے ارکان کے ناموں کی حتمی

منظوری وزیراعظم عمران خان دیں گے۔واضح رہے گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں حکومت نے مولانا فضل الرحمن سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے حکومت نےجمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے مذاکرات کرنے کا باقاعدہ فیصلہ کیا تھا۔حکومت نے مولانا فضل الرحمن سے مذاکرات کیلئے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا۔حکومت نے مولانا فضل الرحمن سے مذاکرات کیلئے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھرنوں سے حکومتیں نہیں جاتیں ،ہمارا 126 دنوں کا تجربہ ہے،جب کہ وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ بات چیت کے ذریعے تمام معاملات حل کرنا چاہتی ہے اور اس کے لئے مفاہمتی کمیٹی بھی تشکیل دیدی گئی ہے انہوں نے بدھ کو ایک نجی نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کو خود کو ایک آمر نہیں سمجھنا چاہئے اور سیاسیو جمہوری طریقے سے معاملات کے حل کے لئے موجودہ حکومت سے مذاکرات کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔وزیر نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمن پر زور دیا کہ وہ حکومت کے سامنے اپنے قانونی مطالبات رکھیں تاکہ انہیں حل کیا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نام نہاد آزادی مارچ شروع کرنے سے گریز کریں اور متنبہ کیا کہ اگر مظاہرین نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔