تحریک انصاف کی ایم پی اے کو پروٹوکول نہ دینے کامعاملہ،چلڈرن اسپتال ملتان کے درجنوں ڈاکٹرز مستعفی ہوگئے

ملتان (نیوز ڈیسک)ملتان میں تحریک انصاف کی ایم پی اے سبین گل کے رویے کےخلاف چلڈرن کمپلیکس کے ڈاکٹرز نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ایم پی اے سبین گل کے پروٹوکول کے معاملے اور ڈی ایم ایس کی معطلی پر استحقاق کمیٹی میں ڈاکٹرز کو دوبارہ بلانے پر چلڈرن اسپتال کے 48 ڈاکٹرز نے استعفے جمع کروا دیے۔جمعرات 17 اکتوبر کو ڈاکٹرز نے پریس کانفرنس میں 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ انتقامی کارروائی جاری رہی تو اسپتال میں مکمل کام بند کر دیں گے۔ ڈاکٹر شاہد کا کہنا تھا کہ میری معطلی کے بعد ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔ ہم نے اجتماعی استعفے دیے ہیں۔ڈاکٹر

کاشف چشتی کا کہنا تھا کہ اسمبلی میں سبین گل کے علاوہ اور بھی اچھے ایم پی اے ہیں۔ میں درخواست کروں گا اسپیکر اسمبلی واقع کا نوٹس لیں۔واضح رہے کہ سبین گل نے اسپتال میں پروٹوکول نا ملنے پر پنجاب اسمبلی میں تحریک استحقاق جمع کراوئی تھی۔ تحریک استحقاق پر چلڈرن اسپتال کے ڈی ایم ایس ڈاکٹر شاہد حسن کو معطل کر دیا گیا تھا۔ایم پی اے سبین گل کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز کی جانب سے بد تمیزی کی گئی اور ڈی ایم ایس انکی ہاں میں ہاں ملاتے رہے۔ پھر میں نے کہا میں اپنی بیٹی کو لے کر چلی جاتی ہوں۔ڈاکٹرز نے تحریک استحقاق واپس لینے اور ایم پی اے کی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔جب کہ دوسری جانب 4اکتوبر کوملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سبین گل نے کہاکہ پروٹوکول کے نام پر میرے خلاف مہم کیوں چلائی گئی۔ انہوں نے کہاکہ میں 4 جولائی کو سوا 12 بجے اپنی بیٹی کو چیک کروانے کے لیے ایم ایس کے پاس گئی، مجھے شک تھا کہ میری بیٹی کوڈینگی ہوگیا ہے، ایم ایس نے مجھے اوپی ڈی میں بھیج دیاچونکہ میرا وہاں پہلی دفعہ جانا ہوا تھا جس پر ایم ایس نے ڈی ایم ایس ڈاکٹرشاہد کو میری رہنمائی کے لیے بھیجا جس کا ڈی ایم ایس ڈاکٹر شاہد نے برا منایا ۔شاید ان کو جانا ان کے پروٹوکول کے خلاف تھا جس کا انہوںنے میڈیا پراظہارکیا۔ وہ مجھے اوپی ڈی نہ چاہتے ہوئے بھی لے گئے ۔وہاں ڈاکٹرسعدیہ خان موجودنہ تھیں ان کی اوپی ڈی میں غیرموجودگی پر میںان کے کمرے کی طرف چلی گئی ۔اپنی باری کے لیے ان کے کمرے کے باہر پندرہ منٹ تک گرمی میں انتظار کیا۔ نرس کے کہنے پر اپنی بیماربیٹی کوساتھ لے کر اجازت طلب کرکے اندرچلی گئی جہاں کوئی مریض موجودنہ تھا جبکہ ڈاکٹر سعدیہ کو

میرا اندر آنا اس وقت ناگوارگزرا ۔اور انہوں نے مجھے باہر چلے جانے کو کہا ۔ ڈاکٹر سعدیہ کی شکایت پر میرے ساتھ بدتمیزی کی گئی اورمیری بچی کو چیک کرنے سے انکارکردیا گیا۔انہوں نے کہاکہ تین ماہ پہلے میں نے اس واقعہ پر نہ ہی ان ڈاکٹروں کوتبدیل کرایا نہ ہی معطل کروایا۔ میں نے انتہائی ذمہ داری اور قواعدوضوابط کومدنظر رکھتے ہوئے تحریک استحقاق جوکہ میراقانونی حق تھا جمع کروائی جس پر کمیٹی نے میرا موقف سننے کے بعد مزید انکوائری اورحتمی فیصلہ آنے تک ڈاکٹر شاہد کو معطل کردیا۔ کمیٹی کے اس فیصلے پر وہ کبھی بھی اثرانداز نہیں ہوئیں۔اس موقع پر ان کے ہمراہ گلشن وڑائچ، غزل صدیقی، عصمت جبیں ،سعدیہ بھٹہ سمیت دیگر شریک تھیں۔