’’ بیوقوف نہ بنیں‘‘ ترک صدر طیب اردوان نے ڈونلڈ ٹرمپ کا دھمکی آمیز خط کچرے کے ڈبے میں پھینک دیا

واشنگٹن (نیوز ڈیسک)برطانوی خبررساں ادارے بی بی سی کے مطابق ترک صدر طیب اردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خط کچرے کے ڈبے کی نذر کردیا تھا۔بی بی سی کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے یہ خط شام سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد لکھا تھا اور اس خط پر نو اکتوبر کی تاریخ درج ہے۔خط میں ترک صدر کو احمق بھی کہا گیا اور کہا کہ زیادہ بڑے نہ بنو تاہم ترک صدر طیب اردوان نے امریکی صدر کے اس خط کو رد کردیا۔ترک صدر کو جس روز یہ خط موصول ہوا اور اسہی روز ترکی نے کردوں کیخلاف شام میں فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔امریکی ماہرین کے مطابق امریکی فوج کے شام سے انخلا کے

بعد کردوں کیخلاف کارروائی کا اشارہ ملا تھا اور اس پر امریکی صدر ٹرمپ کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔صدر ٹرمپ پر انکی اپنی جماعت بھی زیادہ تنقید کررہی ہے۔صدر ٹرمپ کی ریپبلیکن پارٹی کے 129 ممبران نے ڈیمو کریٹس کے ساتھ مل کر صدر کے اس اقدام کے خلاف ووٹ دیا تھا۔کہا جارہا ہے کہ ایوانِ نمائندگان کی سپیکر اور ڈیموکریٹ رہنما نینسی پلوسی نے بھی اس مسئلے پر صدر کے ساتھ ایک اہم اجلاس کیا تھا تاہم اجلاس سے نینسی پلوسی اور سینیٹر چارلس شومر غصے میں کمرے سے نکل گئے تھے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان کو شام میں حملوں سے متعلق لکھے گئے غیر معمولی خط میں خبردار کیا ہے کہ ’بے وقوف نہیں بنیں‘۔فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ خط شام کے شمالی علاقے میں ترکی کے حملوں کے آغاز پر بھیجا گیا تھا جس میں انقرہ کو تاریخی خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے ترک صدر کو ’شیطان‘ قرار دیا گیا تھا۔شام میں کُردوں کے اکثریتی علاقے سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے 3 روز بعد خبریں سامنے آئی تھیں کہ امریکی صدر نے ترک ہم منصب کو بتایا تھا کہ میں بتدریج انقرہ کی معیشت کو برباد کردوں گا، اگر ترک رہنما خطرناک اور تباہ کن راستہ اختیار کرنے سے باز نہیں آئیں گے‘۔سفارتی زبان میں خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے خط کا آغاز موجودہ خطرات کے ذکر سے کیا۔9 اکتوبر کو لکھے گئے خط میں امریکی صدر نے کہا کہ ’ایک اچھے معاہدے پر کام کرتے ہیں‘۔انہوں نے کہا تھا کہ ’آپ ہزاروں افراد کے قتل کا ذمہ دار نہیں بننا چاہتے اور میں ترک معیشت کی تباہی کا ذمہ دار نہیں

بننا چاہتا اور میں ایسا کروں گا‘۔امریکی صدر نے خط میں کہا تھا کہ ’تاریخ آپ کو اچھے انداز میں دیکھے گی اگر آپ اسے صحیح اور انسانی طریقے سے کریں‘۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر اچھی چیزیں رونما نہ ہوئیں تو یہ (تاریخ) آپ کو ہمیشہ شیطان کے طور پر دیکھے گی‘۔انہوں نے رجب طیب اردوان کو بتایا تھا کہ ایک ‘عظیم معاہدہ‘ ممکن ہے کہ اگر وہ کردوں کی سرپرستی میں شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے سربراہ مظلوم عابدی سے مذاکرات کرلیں۔خیال رہے کہ ترکی مظلوم عابدی کو انقرہ میں موجود کرد جنگجو کی وجہ سے ’دہشت گرد‘ قرار دیتا ہے۔امریکی صدر نے خط میں کہا تھا کہ ’سخت انسان نہ بنیں، بیوقوف نہ بنیں‘، اختتام میں امریکی صدر نے مزید لکھا تھا کہ ’میں آپ کو بعد میں کال کروں گا‘۔