گدھا اور کھوتا ۔۔۔ تحریر: شیر محمد اعوان

محقق اور باشعور لوگوں کو یہ بتانے یا سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے کہ گدھے اور کھوتے میں کیا ممکنہ فرق ہو سکتا ہے یا فرق ہے بھی کہ نہیں لیکن وطن عزیز میں بڑی تعداد میں ایسے افراد بھی ہیں جو خود کو ناصرف. دانشور سمجھتے ہیں بلکہ لوگوں کو یہ باور کروانے کی تگ و دو میں جتے رہتے ہیں کہ وہ علم و عقل و دانش کی معراج پا کر اس مقام پر فائز ہو چکے ہیں جہاں وہ کسی بھی موضوع سخن پر طبع آزمائی کا فن جانتے ہیں اور ساتھ ہی کسی چیز کا مفہوم بدلنے اور اپنی مرضی کا مطلب نکالنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔انکی جادوئی نظر کوے کو عقاب اور عقاب کو کوا دکھا کر تمام حقائق اور دلائل کو منہ چھپانے پر مجبور کر دیتی ہے اور دلیل، تاریخ اور تحقیق دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔یہ فلاسفر ان ماورائی

صلاحیتوں کے لحاف کو چھوڑنے سے گریزاں ہوتے ہیں ۔دوسروں کو ہمیشہ عقل و دانش سے عاری سمجھتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے اشارہ بند ہونے پر کوئی ڈرائیور یا موٹر سائیکل سوار تیزی سے نکلتا ہے اور اشارہ کھلنے کے منتظر لوگوں کو بے وقوف اور خود کو تیز اور چالاک گردانتا ہےسیاسی میدان میں چونکہ ہماری شدید یا واجبی سی وابستگی کسی نہ کسی پارٹی سے ضرور ہوتی ہے اس لیے اس میدان میں بھی ہم اپنی پارٹی یا خود سے سر زد افعال کو درست ثابت کرنے کے لیے زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہیں اور وہی عمل جب مخالفین دہرائیں تو ہم اسے ملک دشمنی ثابت کرنے پر تل جاتے ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ اس بات کا ادراک ہونے کے بعد بھی ہمیں یہ اخلاقی جرأت نصیب نہیں ہوتی کہ ہم اعتراف کریں کہ یہ کام جو آج غلط ہے وہ کل بھی غلط تھا۔2014 میں جمہوریت کے خلاف فتوی زن آج مولانا کے دھرنے کو ہوا دینے کی زمہ داری نبھا رہے ہیں۔اور اس وقت حب الوطنی کی بنیاد قرار دینے والےدھرنا ساز آج غداری کے سرٹیفیکٹ بانٹ رہے ہیں۔کل جنہیں لاک ڈاون سے معیشت ڈوبتی نظر آتی تھی آج وہ ان دھرنوں کو آخری امید بتا رہے ہیں اور اس وقت دھرنوں کو تریاق بتانے والے آج اسے زہر قاتل ثابت کرنے کے لیئے دلائل کا طوفان آٹھائے ہوے ہیں۔استعفی دینے سے گریزاں حکمران اور انکے حلیف آج وہی مطالبہ لیے کھڑے ہیں اور چند سال پہلے یہی مطالبہ کرنے والے نالاں ہو کر خندقیں کھود رہے ہیں۔وہی مطالبات وہی دعوے،وہی جذبہ وہی غصہ،وہی فکر وطن ،وہی عوام کا درد مگر امام مختلف ہیں۔نتائج مختلف ہوتے ہیں یا نہیں اسکا فیصلہ وقت کرے گالیکن درست اور غلط کہنے والوں کا تناسب تقریبا وہی ہے۔اس وقت کوے کو سفید کہنے والے

کالا اور کالا کہنے والے سفید کی رٹ لگائے ہوئے ہی. ہم آج بھی کلی طور پر اس بات پر متفق ہونے کو تیار نہیں کہ یہ طریقہ کار غلط تھا اور غلط ہے۔ہم آج بھی یہ سمجھنےبسے قاصر ہیں کہ اسی طرح ہم ہر حکومت کی ٹانگیں کھینچتے آئے ہیں۔مولانا ایک سال کے ہوم ورک اور پلاننگ کے بعد اگرچہ موجودہ حکومت کو ناکوں چنے چبوا سکتے ہیں لیکن اسکے لیئے انہیں باقی پارٹیوں کی حمایت کی اشد ضرورت ہے۔دوسری طرف باقی سیاسی پارٹیاں اپنی ماضی کی کوتاہیوں اور نیب گردی سے ایسے تاریک کمرے میں بند ہیں جہاں پکڑ دھکڑ کی ہلکی سی سر گوشی کی بازگشت بھی کان پھاڑنے کے لیئے کافی ہے۔حکومت کریک ڈاون بھی کر سکتی ہےلیکن وہ حالات کو مزید بگاڑ کی طرف لے جا سکتا ہے۔اگر حکومت ہوش کے ناخن لے تو اس

سلہ کو حل کر ا اس لیے بھی آسان ہو گا کہ بالکل اسی طرح کے مطالبات اور دعووں کے ساتھ موجود حکومت سابقہ حکومت کو گھر بھیجنے کی کوشش میں سرفراز ہوت ہوتے رہ گئی تھی تو اب اس تجربہ سے فائدہ اٹھانا مشکل نہیں کیونکہ وہ تمام گتھیاں کیسے سلجھائی گئی اور کیا اقدامات کیے گئے حکومت اس سے آشنا ہے۔سیاسی پارٹیاں مخمصے کا شکار ہیں۔وہ جمہوری رویو. کا راگ بھی الاپنا چاہتیں ہیں اور ساتھ ساتھ حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے بے تاب ہیں۔وہی رویہ جو اپنے اپنے ادوار میں انکو غیر جمہوری لگتا تھا اب جمہوری لگنے لگا ہے۔اگرچہ کھل کے بات نہ بھی کریں لیکن دل میں لڈو ضرور پھوٹ رہے ہیں اور حکومت کےجانے کا خیال انہیں گدگدا رہا ہے۔چند سال پہلے کے دھرنا سازوں کو آڑھے ہاتھوں لینے والے آج

اس کے فضائل بتاتے نہیں تھکتے۔اور اس وقت کے فضائل گو آج کل فتوے بانٹنے میں پیش پیش ہیں۔مقتدر حلقے ہمیشہ کی طرح خاموش ہیں ۔انکی ایک خوبی ضرور ہے کہ وہ گدھا اور کھوتا کی بحث سے آگے سوچتے ہیں۔لیکن ایسا ماحول پیدا کر دیتے ہیں کہ عوام اس بحث سے باہر نہ نکلے اور اپنے اپنے ٹماٹر کو سیب ثابت کرنےکے لیئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہیں۔ایک مسلسل اور شدید درد میں مبتلا عوام تاریخ سے سبق سیکھے اور حقائق پرکھے بغیر سکون کی تلاش میں مطلوبہ ماحول بنا دیتے ہیں۔اس لیئے اگر جی ( حکومت ) کا جانا ٹھہر گیا ہے تو پھر آنے والے دنوں میں مولانا کا طوطی بولے گا اور اگر ایسا فیصلہ نہیں ہوا توپھر جدید لولی پاپ متعارف کروا دیے جائیں گے۔مولانا اگرچہ بڑے مطمن ،جارح اور مضبوط نظر آ

رہے ہیں لیکن لین دین کا صور پھونکا جا سکتا ہے۔کریک ڈاون،انرونی و سرحدی خلفشار پر بھی قیاس ہو سکتا ہے۔سیاسی ستارہ شناس یہ خبر بھی دے رہے ہیں کہ حالات زیادہ بگڑنے کی صورت میں وزیراعظم اسمبلیاں تحلیل کر کے تاریخ میں ایک ریفرنڈم کا اضافہ کر سکتے ہیں۔ بحرحال دھرنا کامیاب ہو یا ناکام دونوں صورتوں میں آپ دیکھیں گے کہ حکومت اور اپوزیشن اپنے حمایتیوں سمیت جشن منائیں گے اور اپنی اپنی کامیابی کی داستانیں سنائیں گے نتائج بھلے دعووں سے متضاد ہوں لیکن دلائل کے انبار لگ جائیں گے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر دھرنے کو ابتداء میں دھر لیا گیا تو حکومت اس آخری طوفان کو روک کر مستقبل میں روک ٹوک سے بے پرواہ ہو گی اور پھر معیشت کو سنبھالنے کے پرانے جذبہ کے تحت عوام پر نئے ٹیکس

لگائے جائیں گے۔منی بجٹ کا تحفہ بھی دیا جا سکتا ہے۔اگر دھرنے کا جن بوتل سے باہر آگیا اور چند دن قابو نہ آیا تو معیشت کی موجودہ مخدوش صورت حال مزید بگڑ جائیگی ۔پھر بھلے مذاکرات سے مولانا کو رام کر لیا جائے لیکن ان چند دنوں سے ہونے والا نقصان ملک کے وسیع تر مفاد میں عوام پر مزید بوجھ ڈال کر پورا کیا جائے گا۔پٹرول بم ویسے ہی چند دن بعد گرنے والا ہے حیران کن بات یہ ہے کہ ہمارے دانش ور بلبلاتے رہیں گے لیکن اپنے اپنے سیاسی آقاوں کے ہر فیصلے کے دفاع میں دلائل کی دیوار اٹھانے سے باز نہیں آئیں گے۔اس کے لیئے جب چاہیں گدھے کو کھوتا اور کھوتے کو گدھا ثابت کر دیں۔