ہمیں بھارت میں بسنے والے ہندوئوں سے نفرت نہیں،راجہ فاروق حیدر

مظفر آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ ہمیں بھارت میں بسنے والے ہندوؤں سے بھی نفرت نہیں ہے، ہمیں نفرت انتہا پسند مودی سے ہے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے یومِ سیاہ کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری خواہش تھی کہ ہم سیز فائر لائن کے دوسری طرف جا کر اپنے بھائیوں میں امداد تقسیم کرتے لیکن ہندوستان کی حکومت نے اس کی اجاز ت نہیں دی جس پر ہمیں انتہائی افسوس ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی مائیں ،بہنیں اور بیٹیاں ہمارا راستہ دیکھ رہی ہیں کہ کب ہم آئیں گے اور انہیں ہندوستان کے جبر اور ظلم سے نجات دلایں گے۔

انتہا پسند مودی اور بزدل ہندوستان آرمی چیف کو کہنا چاہتا ہوں کہ پاک فوج ، 21کروڑ پاکستانیوں اور لاکھوں کشمیر یوں کے ساتھ مل کر تمہیں کشمیر سے بھگائیں گے۔تم طاقت کے زور پر کشمیریوں کو نہیں دبا سکتے۔پاکستان ہمیشہ مسئلہ کشمیر کی کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کی بات کرتا ہے جبکہ ہندوستان ظلم ،جبر وتشدد سے کشمیریوں کو دبانا چاہتا ہے۔ جو لوگ انسانیت کے لیے مفید ہیں ان کا نام باقی رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب ہم سب سیز فائر لائن کی دوسری جانب مارچ گئے اور خونی لکیر کو توڑ کر سرینگر جائیںگے۔مقبوضہ کشمیر میں نظام زندگی مکمل بند ہے۔ وہاں قابض افواج نے ٹیلی فون ،انٹرنیٹ سمیت تمام ذرائع ابلا غ کو بند کر رکھا ہے تاکہ دنیا مقبوضہ کشمیر کی اصل صورتحال نہ دیکھ سکے۔ افواج پاکستان پر پور ا بھروسہ ہے ۔ افواج پاکستان یہاں ہماری حفاظت کے لیے ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آزادکشمیر کے لاکھوں لوگوں کے خاندان خونی لکیر کی دوسری جانب آباد ہیں۔وہ اپنے رشتہ داروں کے پاس جانا چاہتے ہیں۔میں سرینگر اپنی ماں کے گھر جانا چاہتا ہوں۔ اس جگہ جانا چاہتا ہوں جہاں میرے والد نے تعلیم حاصل کی اور جیل کاٹی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بین الاقوامی دنیا نے کشمیریوں کی آواز سننا شروع کر دی ہے۔ دنیا کی جمہوریتوں اور انسانی حقوق کے اداروں اور تنظیموں سے کہنا چاہتا ہوں کہ کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق حق خودارادیت دلوانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔