بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیر کی تقسیم کو کشمیری کبھی قبول نہیں کریں گے، رہنما تحریک انصاف خولہ خان

اسلام آباد(پی کے نیوز) تحریک انصاف کی رہنما خولہ خان نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے زبردستی بھارت کا حصہ بنا دیا گیا، بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیر کی زبردستی تقسیم کو کشمیری مسترد کرتے ہیں، بھارتی حکومت کے اقدام کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کی نفی کی بلکہ وہ دو طرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی کا بھی مرتکب ہوا ہے، ان کا کہنا تھا کہ تین ماہ گزرنے کے باوجود کشمیر میں لاک ڈاون جاری ہے، بدترین لاک ڈاون سے کشمیریوں کو گھروں میں محصور کررکھا ہے،

کشمیریوں نے زبردست احتجاج سے ثابت کیا ہے کہ وہ جبری بھارتی قبضے کو تسلیم نہیں کرتے۔واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر کو آج باقاعدہ طور پر دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔مودی حکومت کی طرف سے بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے کے منصوبے پر آج 31 اکتوبر 2019 کو باضابطہ طور پر عمل درآمد کر دیا گیا ہے۔ اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی نے بڑے پیمانے پر جشن کا پروگرام ترتیب دیا ہے۔جموں اور وادی کے لیے گریش چندر مرمو کو اور لداخ کے لیے آر کے ماتھر کو گورنر مقرر کیا ہے۔ جبکہ پہلے سے جموں کشمیر میں تعینات گورنر ستیا پال ملک کو گُوا کا نیا مقرر کردیا گیا ہے۔