پی سی بی کے فیصلوں میں وزیراعظم کی مداخلت، پاکستان کرکٹ بورڈ پر آئی سی سی کی جانب سے پابندی لگنے کا خدشہ

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ’ٹی 10‘ لیگ میں کرکٹرز نہ بھیجنے پر پی سی بی کو آئی سی سی کی طرف سے پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ابوظہبی میں 14سے 24 نومبر تک منعقد ہونے والی ٹی 10لیگ میں پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے کرکٹرز کو این او سی دے کر واپس لینے کے سبب مشکلات سے دوچار ہو گیا ہے،لیگ کے پہلے دو ایڈیشن کی میزبانی شارجہ کرکٹ سٹیڈیم نے کی تھی ،اس مرتبہ پہلی بار ایونٹ کی میزبانی شیخ زید سٹیڈیم ابوظہبی کر رہا ہے اور اماراتی بورڈ بھی اس مرتبہ ایونٹ میں اہم کردار ادا کررہا ہے ، اطلاعات کے مطابق اماراتی بورڈ کے نائب چیئرمین خالد الزارونی نے چیئرمین پی سی بی احسان مانی

سے اس سلسلے میں ٹیلی فون پر رابطہ کر کے لیگ میں پاکستانی کرکٹرز کو نا بھیجنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی جسکے جواب میں چیئرمین پی سی بی اس حوالے سے انہیں کسی قسم کی یقین دہانی کے حوالے سے ناکام رہے۔ذرائع کے مطابق بورڈ پر ٹی 10لیگ میں کھلاڑیوں کو نہ بھیجنے کے حوالے سے شدید دباؤہے، اگرچہ بورڈ نے پہلے 16کرکٹرز کو لیگ کےلئے این او سی جاری کر دیا، بعد میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں کرکٹرز کے فٹنس کیمپ کی بنیاد پر دیا گیا، این او سی منسوخ کردیا گیا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ سابق ٹیسٹ کپتان شعیب ملک اور محمد حفیظ کے ساتھ سینٹرل کنٹریکٹ کا حصہ محمد عامر اور ٹیسٹ کرکٹ سے عارضی رخصت لینے والے وہاب ریاض فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل ہی نہیں رہے، تو انکی فٹنس کیمپ میں شمولیت کا کیا جواز بنتا ہے؟ اطلاعات کے مطابق محمد حفیظ نے لاہور میں چند دن قبل چیف ایگزیکٹو وسیم خان سے ملاقات کی، تو انہیں ٹی 10لیگ کے سوال پر وسیم خان نے نہ جانےکا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ اپنے طور پر شرکت سے دستبردار ہو جائیں تو مناسب ہوگا، حفیظ نے وسیم خان سے استفسار کیا کہ بورڈ ہمیں آئی سی سی کی منظور لیگ میں شرکت سے روکنے کا باقاعدہ خط دے، جس پر وسیم خان کوئی واضح جواب نہ دے سکے۔دوسری جانب پی سی بی کے ڈائریکٹر میڈیا سمیع الحسن برنی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ریٹائر ڈ کرکٹرز شاہدآفریدی اور عمران نذیر کے معاملے میں صورتحال آئندہ چند روز میں منظر عام پر آ جائےگی، سمیع الحسن برنی نے بتایا کہ کسی بھی لیگ میں متعلقہ بورڈ کی مرضی کے بناءکرکٹرز حصہ نہیں لے سکتے، پھر چاہے کرکٹرز بورڈ کے معاہدے میں ہوںیا نہیں ، انہیں اجازت تو درکار

ہوگی البتہ محمد حفیظ کے مطابق وہ لیگ کھیلنے جارہے ہیں جبکہ شاہد آفریدی نے بھی سوشل میڈیا پر اعلان کردیا کہ وہ ٹی 10لیگ کھیلنے جارہے ہیں، ان دونوں کے اس اعلان نے بورڈ کےلئے ایک عجیب و غریب صورتحال پیدا کردی ہے کیونکہ اگر کھلاڑی بورڈ کے احکامات کو نظر انداز کر کے لیگ میں شرکت کرتے ہیں، تو پی سی بی قانونی حوالے سے اسلئے کچھ کرنے سے پہلے سوچے گا، کیونکہ یہ آئی سی سی کی منظور شدہ لیگ ہے جبکہ کرکٹ ویب سائٹ نے لیگ میں این او سی واپس لینے کے بورڈ کے فیصلے میں وزیر اعظم عمران خان کی مرضی کا ذکر کر کے بورڈ کی مشکلات بڑھا دی ہیں، حکومتی مداخلت پر آئی

سی سی کی واضح پالیسی ہے، ماضی میں حکومتی مداخلت پر نیپال اور زمبابوے کرکٹ بورڈ مشکلات اور سخت فیصلوں کا سامنا کر چکے ہیں۔اس کے علاوہ سری لنکن کرکٹ کئی بار حکومتی وزا ءکی مداخلت کے سبب آئی سی سی کے عتاب کا شکار ہو چکا ہے، اس نئی صورتحال کے بعد امکان ہے کہ پی سی بی ایک اور یو ٹرن لیتے ہوئے کرکٹرز کو این او سی دےکر ٹی 10 لیگ میں بھیجنے کے بارے میں فیصلہ کرنے جارہا ہے۔