یہ کام ہمارا نہیں، ہم ویڈیوزنہیں ہٹاسکتے، ایف آئی اے نے رابی پیرزادہ کوصاف انکار کردیا

لاہور(نیوز ڈیسک)فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے ) نے رابی پیرزادہ کی ویڈیوز ہٹانے سے انکار کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق ایف آ ئی نے اس حوالے سے مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیوز ہٹانا ہمارا کام نہیں بلکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا کام ہے اور گلوکارہ کی درخواست پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو ارسال کردی گئی ہے ۔یاد رہے کہ گلوکارہ رابی پیرزادہ نے فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے ) کے سائبر کرائم ونگ کو اپنی تصاویر اور ویڈیوز ہٹانے کی درخواست دی تھی جس میں رابی پیرزادہ نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ان کی تصویروں اور ویڈیوز کے باعث انہیں اور ان کی فیملی کو شدید

پریشانی کا سامنا ہے ۔ انہوں نے فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے ) سے اپیل کی تھی کہ سوشل میڈیا پر موجود ان کی تصویریں اور ویڈیوز فوری طور پر ہٹائی جائیں اور ان کے لنکس ختم کیے جائیں۔رابی پیرزادہ نے کہا کہ میری ذاتی تصاویر اور ویڈیوز میرے اُس سمارٹ فون میں موجود تھیں جو میں نے کچھ عرصہ پہلے فروخت کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں میں نے یہ موبائل فروخت کیا ان کے خلاف بھی درخواست دے دی تھی۔ جبکہ رابی پیرزادہ کی سابقہ مینجر پر بھی شکوک و شُبہات اُٹھ رہے ہیں۔ رابی پیرزادہ سے رابطہ کیا گیا تو ان کی نئی منیجر سارہ نے کہا کہ وہ اس وقت بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔رابی پیرزادہ کی منیجر نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ یہ درست ہے کہ ویڈیوز وائرل ہونے سے اب تک ان کی سابقہ منیجر سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا مگر یہ بات یقین سے نہیں کہ سکتے کہ رابی پیرزادہ کی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز انہوں نے ہی وائرل کیں تاہم ایف آئی اے کی تحقیقات کے بعد ہی اصل حقائق سامنے آئیں گے۔دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ رابی پیرزادہ کی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز کلپ دبئی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں اور تب سے ان کی سابقہ منیجر بھی غائب ہیں۔واضح رہے کہ کچھ روز قبل رابی پیرزادہ کی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تھیں جس کے بعد انہوں نے شوبز انڈسٹری چھوڑنے کا اعلان کر دیا تھا۔