اسپتال میں نواز شریف کو کچھ ہوتا تو حکومت ذمہ دار ہوتی لیکن اگرجاتی امراء میں سابق وزیراعظم کو کچھ ہوگیا تو ذمے دار کون ہوگا،ایک نیا معمہ بن گیا

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)جاتی امراء میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو اگر کچھ ہوتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا ایک نیا سوال گردش کرنے لگا ہے ۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں میزبان اسامہ غازی کی طرف سے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی صحت کے بارے میں گفتگو کی گئی تو پروگرام میں شریک تجزیہ کار و سینئر صحافی اسد کھرل نے ایک نیا دعوی ٰ کر دیا کہ اگر جاتی امراء میں قیام کے دوران میاں نواز شریف کو کچھ ہوجاتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے ،کیا نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان اس کی ذمہ داری قبول کریں گے جس پر اسامہ غازی نے جواب دیا کہ جو پہلے ذمہ دار ہیں وہی ہیں ذمہ دار

ہونگے ابھی تک یہ تو پتہ نہیں چل سکا کہ ان کا اشارہ کس طرف تھا مگر اسد کھرل کی طرف اٹھایا جانے والے سوال پر مقتدر حلقے یہ سوچ رہے کہ کہیں انہوں نے میاں نواز شریف کو سروسز ہسپتال سے 16روز بعد ان کی خواہش پر ڈسچارج کر کے کوئی غلطی تو نہیں کر دی ، واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم و مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد میاں نواز شریف کو دو ہفتے قبل نیب لاہور جو ان سے العزیزہ ریفرنس کیس میں تفتیش کر رہی تھی اچانک طبیعت خراب ہونے پر رات گئے سروسز ہسپتال منتقل کر دیا گیا ،دوران چیک اپ پتہ چلا کہ انہیں کے پلیٹ لیٹس مسلسل کم ہو رہے ہیں ، نواز شریف کی طبیعت خراب ہونے پر پنجاب حکومت کو خاصی پریشان لاحق ہوئی ، ان کے علاج کیلئے کراچی سے بھی ڈاکٹر بلائے گئے ، اسی دوران یہ افوائیں بھی گردش کرتی رہیں کہ میاں نواز شریف کی حکومت سے ڈیل ہوگئی ہے ، اور وہ اس لئے ہسپتال لائے گئے انہیں علاج کیلئے باہر بھیج دیا جائے گا ، مگریہ باتیں افواہیں ہی ثابت ہوئیں ، عدالت نے ان کو بیماری کی وجہ سے دو ہفتوں کیلئے علاج کی مہلت دی اور ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ اگر مزید انہیں کچھ ریلیف چاہے ہوگا تو ان کو پنجاب حکومت سے رابطہ کرنا ہوگا ، اب مریم نواز کو عدالت نے ضمانت پر رہا تو کیا مگر ساتھ ہی انہیں پاسپورٹ ہائیکورٹ میں جمع کروانے کا پابند بنا یا گیا تاکہ وہ کہیں وہ بیرون ملک نہ چلی جائیں ، بدھ کے روز میاں نواز شریف کی سروسز ہسپتال سے جاتی امرا ء میں منتقلی کے بعد ان کی صحت کے بارے میں متعدد سوالات اٹھائے جار ہے ہیں ، ایسے ہی سینئر صحافی اسد کھرل نے جو سوال اٹھایا کہ اگر نواز شریف کو جاتی امراء میں کچھ ہوا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا اس کا ابھی

ن لیگ کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔جاتی امراء میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو اگر کچھ ہوتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا ایک نیا سوال گردش کرنے لگا ہے ۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں میزبان اسامہ غازی کی طرف سے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی صحت کے بارے میں گفتگو کی گئی تو پروگرام میں شریک تجزیہ کار و سینئر صحافی اسد کھرل نے ایک نیا دعوی ٰ کر دیا کہ اگر جاتی امراء میں قیام کے دوران میاں نواز شریف کو کچھ ہوجاتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے ،کیا نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان اس کی ذمہ داری قبول کریں گے جس پر اسامہ غازی نے جواب دیا کہ جو پہلے ذمہ

دار ہیں وہی ہیں ذمہ دار ہونگے ابھی تک یہ تو پتہ نہیں چل سکا کہ ان کا اشارہ کس طرف تھا مگر اسد کھرل کی طرف اٹھایا جانے والے سوال پر مقتدر حلقے یہ سوچ رہے کہ کہیں انہوں نے میاں نواز شریف کو سروسز ہسپتال سے 16روز بعد ان کی خواہش پر ڈسچارج کر کے کوئی غلطی تو نہیں کر دی ، واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم و مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد میاں نواز شریف کو دو ہفتے قبل نیب لاہور جو ان سے العزیزہ ریفرنس کیس میں تفتیش کر رہی تھی اچانک طبیعت خراب ہونے پر رات گئے سروسز ہسپتال منتقل کر دیا گیا ،دوران چیک اپ پتہ چلا کہ انہیں کے پلیٹ لیٹس مسلسل کم ہو رہے ہیں ، نواز شریف کی طبیعت

خراب ہونے پر پنجاب حکومت کو خاصی پریشان لاحق ہوئی ، ان کے علاج کیلئے کراچی سے بھی ڈاکٹر بلائے گئے ، اسی دوران یہ افوائیں بھی گردش کرتی رہیں کہ میاں نواز شریف کی حکومت سے ڈیل ہوگئی ہے، اور وہ اس لئے ہسپتال لائے گئے انہیں علاج کیلئے باہر بھیج دیا جائے گا ، مگریہ باتیں افواہیں ہی ثابت ہوئیں ، عدالت نے ان کو بیماری کی وجہ سے دو ہفتوں کیلئے علاج کی مہلت دی اور ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ اگر مزید انہیں کچھ ریلیف چاہے ہوگا تو ان کو پنجاب حکومت سے رابطہ کرنا ہوگا ، اب مریم نواز کو عدالت نے ضمانت پر رہا تو کیا مگر ساتھ ہی انہیں پاسپورٹ ہائیکورٹ میں جمع کروانے کا پابند بنا یا گیا تاکہ وہ کہیں وہ بیرون ملک نہ چلی جائیں ، بدھ کے روز میاں نواز شریف کی سروسز ہسپتال سے جاتی امرا ء میں منتقلی کے بعد ان کی صحت کے بارے میں متعدد سوالات اٹھائے جار ہے ہیں ، ایسے ہی سینئر صحافی اسد کھرل نے جو سوال اٹھایا کہ اگر نواز شریف کو جاتی امراء میں کچھ ہوا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا اس کا ابھی ن لیگ کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔