ڈئیر جمائما! ہم پاکستانی آپ کی بہت عزت کرتے ہیں،جمائمہ کے ایک ٹویٹ نے پاکستانیوں کے دل جیت لیے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ کا ابھی بھی پاکستانیوں سے احساس کا گہرا رشتہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ عمران خان سے علیحدگی اختیار کرنے کے اتنے سال بعد بھی مختلف موقوں پر پاکستانیوں کے لیے ٹویٹر پر پیغامات جاری کرتی رہتی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جمائما ابھی پاکستان سے جڑی یادوں کونہیں بھولیں۔جمائما گولڈ اسمتھ برطانیہ میں ہونے کے باوجود ہر موقع پرعمران خان کی حوصلہ افزائی کرتی نظرآتی ہیں۔ اور پاکستان میں موجود لوگ جمائما کی اس خوبی کی وجہ سے ان کو بہت پسند کرتے ہیں اور ان کی عزت بھی کرتے ہیں۔عمران خانا کو وزیراعظم بننے کے بعد جہاں

کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا وہیں انہیں اب جمعیت علمائے اسلام ف کے آزادی مارچ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔گذشتہ ایک ہفتے سے آزادی مارچ کے شرکاء اسلام آباد میں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں،تاہم اس تمام صورتحال میں دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب دھرنا دینے والی جماعت کے رہنما مفتی کفایت اللہ نے وکی لیکس کو جمائما کا کزن قرار دے دیا۔ مفتی کفایت اللہ کے عمران خان اور جمائما پر الزام اور وکی لیکس کے بانی سے متعلق لاعلمی پر وزیراعظم پاکستان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ نے رہنما جے یو آئی پر طنز کے تیر چلا دیے۔مفتی کفایت اللہ نے ایک پروگرام میں وکی لیکس کوباربار وکی یا لیکس جاری کرنے والا کردار کہہ کر مخاطب کیا تھا۔ اس پر جمائما نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ بقول ایک عالم جمائما کا ایک کزن وکی ہے جس نے وکی لیکس جاری کیں۔وہ صیہونیوں کا ایجنٹ ہے اور ان کا ایجنڈا پورا کرنے کیلیے عمران خان کی مدد کررہا ہے۔ ایک اور ٹویٹ میں جمائما نے کہا کہ دیکھتے ہیں کب انھیں میرے دوسرے کزنز پاناما لیکس اور وکی پیڈیا کے بارے میں پتا چلتا ہے۔جمائما کی ٹویٹ پر دیگر صارفین بھی میدان میں کود پڑے۔وزیراعظم عمران خان کے دفاع اور پاکستان سیاست کے حوالے سے اس ٹویٹ کا جواب دینے پر پاکستانی صارفین نے ایک بار پھر جمائما کے لیے محبت کا اظہار کیا ہے۔ایک صارف نے کہا ہے کہ ہمیں آپ سے محبت ہے جمائما۔ ایک صارف نے کہا کہ ڈئیر جمائما ہم پاکستانی آپ کی بہت عزت کرتے ہیں،خاص طور پر آپکے عمران خان سے رشتے کے حوالے سے۔ایک صارف نے کہا کہ جمائما ہم آپ کی بہت عزت کرتے ہیں۔جب کہ ایک صارف نے تنقیدی ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اگر آکسفورڈ یونی ورسٹی سے تعلیم یافتہ عمران خان جرمنی اور جاپان کی سرحدیں ملا سکتے ہیں تو ایک مذہبی رہنما کے ایک وکی کو کوئی اور وکی سمجھنے پررائے دینا ٹھیک نہیں۔