نواز شریف کا بیرون ملک علاج کروانے کا معاملہ، حکومت راستے سے ہٹ گئی، وزیراعظم ہائوس سے حیران کن ردعمل آگیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت کا نواز شریف کے بیرون ملک علاج کے معاملے پر موقف آ گیا۔حکومت نے نواز شریف کے بیرون ملک علاج کی راہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق کا کہنا ہے کہ حکومت کا شروع سے موقف رہا ہے کہ نواز شریف کو باہر سے علاج کروانا چاہئیے۔یہ انسانی معاملہ ہے،نواز شریف کی صحت کے لیے دعاگو ہوں۔نعیم الحق نے مزید کہا کہ حکومت نواز شریف کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔اس سلسلے میں جو بھی عدالتی فیصلہ ہو گا،حکومت قبول کرے گی۔ حکومت نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد نواز شریف کی ای سی ایل کی درخواست پر فوری عمل درآمد کا فیصلہ کیا ہے۔سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کا نام

ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکلوانے کے لیے حکومت کو درخواست دینے دے دی گئی ہے، نواز شریف اور مریم نواز کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکلوانے کے لیے شہباز شریف نے وکلا سے مشاورت کا آغاز کیا جس کے بعد شریف خاندان کی جانب سے وزارت داخلہ کو درخواست دے دی گئی ہے۔درخواست میں نواز شریف کی طبیعت ناسازی اور بیرون ملک علاج کےلیے ڈاکٹرز کی تجویز کا تذکرہ کیا گیا۔ شریف خاندان کی جانب سے دائر کی جانے والی یہ درخواست سیکرٹری داخلہ کو موصول ہو گئی ہے۔ حکومت نے بھی نواز شریف کی درخواست پر فوری عملدرآمد کا فیصلہ کیا ہے۔جس کے بعد نواز شریف کا نام جلد ہی ای سی ایل سے نکالے جانے کا امکان ہے۔وزارت داخلہ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا۔ جس کے بعد نواز شریف کا جلد ہی بیرون ملک جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔