نمرتا کماری کا زیادتی کے بعد قتل،مقتولہ کے حق میں آزادی مارچ نے بڑامطالبہ کردیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) آزادی مارچ کے شرکاء نے ڈاکٹر نمرتا کماری کے قاتلوں کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کر دیا۔تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما مولانا راشد محمود سومرو نے اس حوالے سے قرارداد اجتماع میں پیش کی۔مولانا راشد محمود سومرو نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر نمرتا کماری کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اُسے زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کی ہمیں نگہبانی کرنی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر نمرتا کماری کے قاتلوں کو بے نقاب کیا جائے گا۔جب کہ دوسری جانب چانڈکا میڈیکل کالج کے ہاسٹل نمبر تھری

کے کمرہ 47 سے بی بی آصفہ ڈینٹل کالج فائنل ایئر کی طالبہ نمرتا چندانی کی 16 ستمبر کی پراسرار ہلاکت کے ڈیڑھ ماہ بعد حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کردی گئی ہے، میڈیکو لیگل آفیسر ڈاکٹر امرتا کی جانب سے جاری کردہ حتمی پوسٹ مارٹم بھی مبہم ہے جو کہ خودکشی یا قتل کا تعین نہ کرسکی، جاری کردہ حتمی رپورٹ کے مطابق نمرتا کی ہلاکت کی وجہ گلا اور دم گھٹنا بتایا گیا ہے جبکہ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ نمرتا کے گلے پر نشانات موجود تھے تاہم یہ نشانات گلا گھونٹنے یا پھندے سے لٹکنے سے آئے اس کا فیصلہ تحقیقاتی ادارے جائے وقوع سے ملنے والے شواہد کی روشنی میں کریں گے، اس سے قبل نمرتا کی ہسٹو پیتھالوجی رپورٹ کے مطابق دل، گردوں، جگر اور پھیپھڑوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا جبکہ کیمیکل رپورٹ میں بھی کوئی زہریلی ادویات نہیں ملیں تاہم نمرتا کے جسم اور کپڑوں سے ایک مرد کا ڈی این اے ملنے کی تصدیق ہوچکی ہے، ذرائع کے مطابق نمرتا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جوڈیشل انکوائری میں پیش کی گئی ہے جبکہ آئندہ چند روز میں جوڈیشل انکوائری کی بھی حتمی رپورٹ وزارت داخلا اور رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو بھجوا دی جائے گی، نمرتا ہلاکت کیس میں پولیس کی زیر حراست آصفہ ڈینٹل کالج فائنل ایئر کے دو طالبعلم اور نمرتا کے کلاس فیلوز مہران ابڑو اور علی شان میمن تاحال پولیس حراست میں موجود ہیں