2019کاپہلا این آر او ہوگیا دوسرا جلد ہوجائیگا، این آر او دینے اور لینے والوں کیلئے اپنی پوزیشن کا دفاع کرنا مشکل ہوگیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے شریف خاندان کی جانب سے دی جانے والی وزارت داخلہ کو درخواست موصول ہوگئی ہے. حکومت نے اصولی طور پر درخواست کو منظور کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور شریف خاندان کی درخواست پر وزارت داخلہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے اپنی سفارشات وفاقی کابینہ کو ارسال کرئے. حکومتی ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ اگلے24سے48 گھنٹوں کے دوران وفاقی کابینہ کو اپنی سفارشات ارسال کردے گی اور کابینہ کی منظوری کے بعد سابق وزیراعظم کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے گا اور نوازشریف ممکنہ طور پر اگلے ہفتے لندن روانہ ہوجائیں گے.اس تمام صورتحال میں ایک بار پھر این آر او کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیال میں ملک کی سیاسی صورتحال میں حالیہ پیش رفت دراصل این آر او کا حصہ ہے۔این آر اور کا واضح تاثر دینے سے بچنے کے لیے نواز شریف کو باہر بھیجنے میں زیادہ جلدی نہیں کی جائے گی۔اب چونکہ ن لیگ کسی بھی قسم کا این آر او نہ لینے اور حکومت کی جانب سے این آر او نہ دینے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں تو دونوں کے لیے اپنی پوزیشن کا دفاع کرنا مشکل ہو گیا ہے۔نواز شریف بیرون ملک جانے کے لیے رضا مند ہو گئے ہیں جب کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے بیرون ملک جانے کی راہ میں حکومت رکاوٹ نہیں بنے گی۔اسی حوالے سے معروف صحافی مظہر عباس نے ٹویٹ کیا ہے کہ 2019 کا پہلا این آر او۔۔ جلد ہی دوسرا این آر او بھی ہو گا،مسلم لیگ اور تحریک انصاف دونوں کے لئے اپنی اپنی پوزیشن کا دفاع کرنا مشکل ہے۔