مولانا کی جان کو خطرہ، دشمن ملک بھارت نے پاکستان میں انتشار پھیلانے کیلئے خوفناک منصوبہ بندی کرلی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اپنے آزادی مارچ کے ہمراہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کشمیر ہائی وے پر دھرنا دے کر بیٹھے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے استعفے اور ملک میں دوبارہ انتخابات پر بضد ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے کالم نگار منصور آفاق نے ایک مکالمے کی شکل میں کہا کہ کسی نے مجھ سے کہا کہ ویسے اس وقت دھرنے والوں پر لوگوں کو ترس بہت آرہا ہے۔رات ایک خدا رسیدہ بزرگ سے ہمکلامی کا شرف ملا۔ کہتے تھے ’’بارش میں بھیگتے، ٹھٹھرتے، بیچارے دھرنے والے۔ ان کے، بہن بھائیوں اور خیر خواہوں کو

انہیں سمجھانا چاہئے۔ اپنا موقف انہوں نے واضح کر دیا۔اب گھروں کو لوٹ جائیں۔ اپنے بیوی، بچوں اور عزیز رشتہ داروں کو ذہنی اذیت سے بچائیں، خود بھی بچیں۔ کب تک، جانے کب تک، اسلام آباد کی ٹھنڈ میں بیچارے پڑے رہیں گے۔میں نے کہا ’’اُن مزارعین کو تو اُس جنگ کے عوض کچھ نہ کچھ حاصل ہو جاتا تھا- اِن کی تو جو کچھ جیب میں تھا، خرچ کرا دیا گیا ہے- اِن سے کچھ رقم تو پہلے ہی ’’دھرنا فنڈنگ‘‘ کے نام پر لے لی گئی تھی‘‘۔ میں نے کہا ’’لوگ کہہ رہے ہیں مولانا نے وہ حاصل کر لیا ہے جو کرنا تھا‘‘۔ فوراً بولے ’’توقف فرمائیے۔ تھوڑا انتظار کیجئے۔ وہ سب کچھ کھو دیں گے۔تمام تعصبات سے پاک، یہ اقبال اور قائداعظم کا ملک ہے۔ یہاں فرقہ پرست نہیں پنپ سکتے‘‘۔میں نے پوچھا ’’مولانا کہتے ہیں کہ وہ لوگ تین سو سال سے تحریکیں چلاتے آرہے ہیں‘‘ کہنے لگے ’’مولوی صاحب ان تحریکوں کے نغمہ خواں ہیں جو ناکام رہیں۔ سید احمد اور سید اسماعیل کی تحریک، 1857کی بغاوت میں شامل، لکھنو میں قتلِ عام کرنے والے صاحبان، ریشمی رومال تحریک اور تحریکِ طالبان افغانستان۔کامیاب تو صرف تحریک پاکستان رہی۔ ان کے اجداد جس کے مخالف تھے۔ اسفند یار، حاصل بزنجو، محمود اچکزئی اور مولانا فضل الرحمٰن کے والد گرامی عبدالولی خان، غوث بخش بزنجو، عبدالصمد اچکزئی اور مفتی محمود تحریک پاکستان کے خلاف تھے۔ یہ چاروں بھائی کیا چاہتے ہیں؟ اس پر مستزاد تحریک طالبان، جس نے مولوی صاحب کو گھیر رکھا ہے۔ منصور آفاق نے لکھا کہ میں نے کہا ’’مولانا نے توفوج کے خلاف بھی گفتگو کی ‘‘۔بولے۔’’مولوی صاحب کی مہم اتنی عمران خان کے خلاف نہیں، جتنی افواج پاکستان کے خلاف ہے۔ افواج

پاکستان کا اصل دشمن کون ہے؟ بھارت، اسرائیل اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ۔‘‘ پھرپوچھا ۔’’لوگ کہہ رہے ہیں مولانا کی زندگی کو ’’را‘‘سے خطرہ ہے ۔پہلے کہتے تھے بھارت نے مولانا کو فنڈنگ دی ہے ‘‘کہنے لگے۔’’مولانا کو بتائے بغیر بھارتی خفیہ ایجنسی ان کے مارچ کی مدد بھی کر سکتی ہے اور ان پر حملے کی پلاننگ بھی۔ خفیہ ایجنسیاں اسی طرح کام کرتی ہیں۔ اللہ محفوظ رکھے، پہلے بھی ان پر خود کش حملے ہو چکے ہیں۔ جس طرح بھی ممکن ہو، بھارت کا ہدف پاکستان میں انتشار ہے۔‘‘