مولانافضل الرحمن کے صاحبزادے نے علی امین گنڈاپور کا چیلنج قبول کرلیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے صاحبزادے مفتی اسعد محمود نے حکومت کا دوبارہ الیکشن لڑنے کا چیلنج قبول کر لیا۔تفصیلات کے مطابق آج اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہے۔اجلاس کے دوران ایک بار پھر حکومت اور اپوزیشن رہنماؤں کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ خیال ہوا۔وزیر دفاع پرویز خٹک نےمولانا فضل الرحمن کو دوبارہ الیکشن لڑنے کا چیلنج کیا اور کہا کہ مولانا صاحب علی امین گنڈا پور کا چیلنج قبول کیوں نہیں کرتے۔جس پر مفتی اسعد محمود نے کہا کہ علی امین گنڈا پور بھی استفعیٰ دیں اور میں بھی دیتا ہوں،

دوبارہ الیکشن لڑ لیتے ہیں۔مفتی اسعد محمود نے کہا کہ علی امین گنڈا پور آج سیٹ خالی کریں، کل الیکشن لڑ لیں گے۔انہوں نے کہا کہ اب پیچھے نہیں ہٹنا استفعیٰ دینے کا اعلان کرو اور دوبارہ الیکشن لڑتے ہیں۔واضح رہے کہ وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور نے امیر جمیعت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان کو ایک مرتبہ پھر انتخابی میدان میں اُترنے کا چیلنج کیا تھا۔ق علی امین گنڈا پور نے مولانا فضل الرحمان کے حلقے میں جلسہ کرنے کا اعلان بھی کیا اورکہا کہ میں مولانا فضل الرحمان کے حلقے میں جلسہ کر کے دو گنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کروں گا۔انہوں نے کہا کہ جتنے لوگ اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے مل کر اکٹھا کیے ہیں میں اکیلا مولانا فضل الرحمان کے حلقے میں عوام کی اتنی بڑی تعداد جمع کروں گا۔ علی امین گنڈا پور نے مولانا فضل الرحمان کو انتخابی میدان میں اُترنے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان تیار ہوں میں اپنی جیتی ہوئی نشست چھوڑنے کے لیے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا اگر چاہیں تو ہر پولنگ اسٹیشن کے اندر کیمرے لگا کر انتخاب لڑ لیں۔انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ مولانا انتخاب جیت کر دکھا دیں۔ علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ مولانا اداروں پر تنقید بند کریں اور اگر ہمت ہے تو چیلنج قبول کریں۔ مولانا کو وہ شکست دیں گے کہ ساری زندگی یاد رکھیں گے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل بھی علی امین گنڈا پور نے مولانا فضل الرحمان کو چیلنج کیا تھا اورکہا تھا کہ چیلنج ہے کہ میں استعفیٰ دیتا ہوں، مولانا میرا مقابلہ کرلیں۔