مولانافضل الرحمن آئندہ 2دنوں میں افغانستان کے پلان کے مطابق کیا کرنے جارہے ہیں، خوفناک منصوبہ سامنے آگیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئےسینئرصحافی و تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کی موجودہ صورتحال سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً ایک ہزار سے 1500 کے قریب افغانستان سے ٹریننگ یافتہ مسلح افراد اسلحہ سمیت اسلام آباد میں پہنچا دیے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ لوگ پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد کے گھروں اور راولپنڈی کے گھروں میں اسلحہ سمیت پہنچا دیئے ہیں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ کل پرسوں تک مولانا فضل الرحمان ایک ادارے کے خلاف ایسی بھیانک گفتگو کریں گے جس کی لائن ان کو افغانستان سے مل چکی ہے۔ اس گفتگو کا نقصان پاکستان کو ہو سکتا ہے ۔ یاد رہے کہ حکومت کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دے کر بیٹھنے والے مولانا فضل الرحمان اب دھمکیوں پر اُتر آئے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان اپنا اسلام آباد مارچ ناکام ہوتے دیکھ کر مکمل طور پر حواس باختہ ہو گئے ہیں۔گذشتہ رات مولانا فضل الرحمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اگر ملک اس قابل نہیں کہ موجودہ حالات کا متحمل ہو سکے تو پھر ملک کو ہی فارغ کر دینا چاہیئے۔ جبکہ مولانا کی جماعت جمیعت علمائے اسلام (ف) نے دھمکی دی کہ اگر حکومت نے ان کے مارچ کو سنجیدہ نہ لیا تو پھر ملک کی گلی گلی میں دنگا فساد ہوگا۔ ملک میں جو کچھ ہو گا پھر اس کے بعد لوگ ماڈل ٹاؤن واقعے کو بھول جائیں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب ایک بند گلی میں جا چکے ہیں۔ مولانا نے حکومت کو دھمکی دی کہ ان کے مطالبات قبول نہ کیے گئے تو پھر ملک بھر میں افراتفری مچے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت مطالبات قبول کرے اور 2 سے 3 ماہ کے اندر اندر نئے انتخابات کا اعلان کرے۔