مودی سن لو! انصاف سے امن، ناانصافی سے انتشار پھیلتا ہے،وزیراعظم عمران خان کا کرتارپورراہداری کی افتتاحی تقریب سے خطاب

کرتارپور(نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مودی سن لو! انصاف سے امن، ناانصافی سے انتشار پھیلتا ہے، منموہن سنگھ نے بھی کہا کہ مسئلہ کشمیر حل ہونے سے سارا برصغیر اوپر اٹھ سکتا ہے،کشمیر انسانی حقوق کا ایشو ہے، 80لاکھ لوگوں کو 9لاکھ فوج کے انڈربند کیا ہوا ، ان کو جانوروں کی طرح رکھا گیا ہے، اقوام متحدہ کی قراردادپر عمل نہیں کیا، کبھی ایسے امن نہیں ہوگا۔انہوں نے آج آج یہاں کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے سکھ برادری کو 550ویں سالگرہ کی مبارکباد دیتا ہوں، خوش آمدید کہتا ہوں، ایف ڈبلیوسب سے آگے تھی، جنہوں نے 10مہینے کے اندر

سڑک، کمپلیکس اور پل بنایا ، ان کو خراج تحسین پیش کرتاہوں۔ مجھے تو اندازہ ہی نہیں تھا کہ میری حکومت اتنی کام کرنے والی ہے۔جس طرح دن رات کام کیا اور خوبصورت کمپلیکس تیار کیا ، صرف مبارکباد ہی نہیں، دل سے دعا دیتا ہوں۔ مجھے خوشی ہوتی دیکھ کر جس طرح سکھ کمیونٹی جب یہاں آتی ہے اور ان کو خوشی ہوتی ہے۔سدھو نے جو شاعری کی، دلوں میں اللہ بستا ہے، جب کسی کو خوشی دیتے ہیں تواللہ کو خوش کرتے ہیں، ہمارے نبی پاک ﷺ سارے انسانوں کیلئے رحمت بن کر آئے ہیں۔ اللہ کے پیغمبر دنیا میں انسانیت اور انصاف کا پیغام لے کرآئے، یہ دوچیزیں انسانی معاشروں کو جانوروں کے معاشرے سے فرق کرتی ہے، جانوروں کے معاشرے میں دونوں چیزیں نہیں ہوتیں۔جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہوتی ہے، طاقتور جو مرضی کرلے۔انہوں نے کہا کہ گرونانک کا جو بھی فلسفہ پڑھتا ہے ، یہ دونوں چیزیں انہوں نے بتائیں، انسانوں کو تفریق کرنے کی بات نہیں کرتے، اللہ کے قریب سب لوگوں سے پیار کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں چلے جائیں، وہ لوگ بابافرید، نظام الدین اولیا، حضرت معین الدین چشتی آج بھی لوگ ان کے مزاروں پر جاکران کو دعائیں دیتے ہیں۔مجھے خوشی ہے کہ ہم کرتارپور والا کام کرسکے ۔مجھے تو کرتارپورکی اہمیت کا علم ہی نہیں تھا۔ میں مسلمانوں کو بتاتا ہوں کہ ہم اگر مدینہ کو چار پانچ کلومیٹر دور سے دیکھ سکیں لیکن جانہ سکیں، کتنی تکلیف ہوتی ہے، یہ سکھ برادری کا مدینہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لیڈر ہوتا ہے، اللہ کے سارے پیغمبر لیڈرتھے، لیڈرہمیشہ انسانوں کو اکٹھا کرتا ہے، نفرتیں نہیں پھیلاتا، نفرت پھیلا کرووٹ نہیں لیتا، نیلسن منڈیلا نے انسانوں کو اکٹھا ان کو ان کی عوام ہمیشہ دعائیں دے گی ، گورے

،حبشی تقسیم تھے، کوئی نہیں سمجھتا تھا کہ افریقہ میں انصاف ہوگالیکن وہ 27سال جیل میں گزارتا ہے اور جنوبی افریقہ کو خون سے بچا لیا۔آپ ﷺ نے ساری تعلیمات انسانیت کی بات کی۔ صوفیاء کرام نے بھی انسانیت کی بات کی ، ہمارے دین اسلام میں ہے، ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مودی سے پہلی بات کی تو کہا کہ ہمارے درمیان بڑا مسئلہ غربت ہے۔یہاں خوشحالی آسکتی ہے۔ ہمارا مسئلہ صرف ایک ہے ، وہ مسئلہ کشمیر ہے، وہ مذاکرات سے حل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ایک کانفرنس میں منموہن سنگھ ملے انہوں نے کہا کہ ایک مسئلہ کشمیر حل کرنے سے سارا برصغیر اوپر اٹھ سکتا ہے۔کشمیر انسانی حقوق کا ایشو ہے۔ 80لاکھ لوگوں کے انسانی حقوق ختم کرکے 9لاکھ فوج کے اندر بند کیا ہوا ، یہ انسانیت کا مسئلہ ہے۔ ان کو جانوروں کی طرح رکھا گیا ہے، اقوام متحدہ کی قراردادپر عمل نہیں کیا، کبھی ایسے امن نہیں ہوگا، مودی سن لے، انصاف سے امن ہوتا ہے، ناانصافی سے انتشار پھیلتا ہے۔