شلوار قمیص کا لباس اور چوکیدار ۔۔۔ تحریر : احمد بخش بلوچستانی

ٖفیصل کو سلام آباد میں اتفاق سے کسی دفتر میں کام سے جانا پڑا۔ قبائلی علاقے کے دوردراز علاقے سے اپنے قبائلی سٹائل کا بہترین لباس زیب تن کر کے فیصل نے پاکستان کے سب سے خوبصورت اور ماڈرن شہر اسلام آباد کا رخ کیا۔فیصل کا اسلام آباد جانا کسی ترقی یافتہ ملک کی یاترا سے کم نہ تھا کیوں کہ اب بھی پاکستان کے کچھ علاقے اسلام آباد سے دس دہائیاں پیچھے ہیں اور اس تیز ترین ترقی یافتہ دور میں رہتے ہوئے بنیادی ضروریات کے منتظر ہیں۔ بہر کیف اٹھائیس گھنٹے با مشقت سفر کے بعد فیصل کو اسلام آباد آنا نصیب ہوا۔با نظر غائر فیصل ،اگر چہ پڑھا لکھا تھا لیکن شہر اقتدار کی روشنیا ں آنکھوں کو چندھیاں

دینے والی تھیں، ٹریفک کی روانی اور بر کشش سبز پہاڑوں کو دیکھنے لگا۔ اپنے ہی گاوں کے لڑکے اسلم ، جو کہ اس کے لئے کسی ہیرو سے کم نہ تھا، نے اس کو اپنی ہاسٹل میں رات گزارنے کے لئے جگہ دی۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب وزیراعظم عمران خان صاحب نے شلوار قمیص کو سرکاری لباس کے طور پر متعارف نہیں کروایا تھا۔ شاید ہی آپ میں سے کسی نے غور کیا ہو کہ جس دن سے وزیراعظم پاکستان نے حلف اٹھا یا ہے اس دن سے لیکر آج تک انہوں نے شلوار قمیص زیب تن کی ہوئی ہے جو قدر جنرل ضیاء الحق کی اسلامائزیشن کی جھلک دیتا ہے۔ لیکن کیا واقعی عمران خان صاحب اس گوبلائزیشن کے دور میں پاکستان کو مدینہ کی فلاحی ریاست کے طرز پر چلانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔یا پھر یہ سرگوشیاں سچ ثابت ہونگی کہ اس وقت پاکستانی معاشرہ اس قدر polarize ہو چکا تھا کہ اب ایک مسیحا کے انتظار میں تھا جو ان کو عمران خان صور ت میں ملا جس کے صرف الفاظ بولتے ہیں اعمال کا ان سے کوئی تعلق نہیں؟واقعہ یہ ہے کہ جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے کسی نہیں پاکستان میں موجود Cultural Diversity میں پنہاں خوبصورتی کو پہچاننے کی کوشش نہیں کی۔ پاکستان کا ہر صوبہ وفاق کا حصہ ہوتے ہوئے اپنی ایک الگ سماجی اور ثقافتی حیثیت رکھتا ہے جو کہ بلکل ہی جداگانہ اور منفرد ہے۔ بلوچستان کی سجی، خیبر پختنخوا کا چرسی تکہ ، پنجاب کا بھنگڑا اور سند ھ کی اجرک اور مہمان نوازی اپنی مثال آپ ہیں۔ چلیں چھوڑیں یہ تاریخیں باتیں! اگلی صبح جب فیصل نے اپنے کام کے لئے دفتر کا رخ کیا تو وہاں موجود چوکیدار نے فیصل کا قبائلی لباس دیکھ کر روک لیا جب کہ اسی کے ساتھ آیا ہوا اس کا دوست اسلم جو کہ پینٹ کوٹ میں ملبوس تھا اسی دروازے سے با آسانی گزر گیا۔