کاشانہ اورنشانہ۔۔۔ تحریر: محمد ناصر اقبال خان

ہمارے ہاں ایک دوسرے کیلئے راہیںہموار اورآسانیاں تقسیم کرنے سے زیادہ دوسروں کابنابنایاکام بگاڑنے اوردوسروں کی زندگی دشواربلکہ ابتربنانے کارواج ہے۔اگرکوئی گرجائے تولوگ اسے اٹھانے کی بجائے اس پرہنسنا پسندکر تے ہیں۔اگرکسی سے کوئی غلطی سرزدہوجائے تواس کی سرزنش سمجھ آتی ہے مگر اچھاکام کرنیوالے کی بازپرس ناقابل فہم اورناقابل برداشت ہے۔ ہم اپنے معاشرے کی کامیاب شخصیات پررشک کرنے کی بجائے ان سے حسداوراس بری عادت سے اپنانقصان کرتے ہیں۔محاورہ ”برے کام کابراانجام” توسنا کرتے تھے مگرہمارے ملک میں نیک نام اورمخلص افرادکا”اچھا”کام ہوتے ہوئے بھی بیشتراوقات ان کاانجام بہت” برا”ہوتا ہے کیونکہ مافیا ممبرز اپنے مفادات کیلئے خطرہ یارکاوٹ بننے والے کرداروں کوزراورزورکے بل پر

راستے سے ہٹانا جانتے ہیں ۔پاکستان کے کروڑوں محب وطن عوام کی طرح کاشانہ ویلفیئرہوم کی شفیق ومہربان ماں جیسی سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کو سینئر کالم نگاروں اورانسانی حقوق کے علمبرداروں کی دعوت پر اپنے ادارہ میں مقیم یتیم وناداربیٹیوں کے ساتھ کشمیرمیں بھارتی بربریت کیخلاف پرامن احتجاجی مظاہرے میں شریک ہونے پر پنجاب حکومت کی چندبااثرسیاسی وسرکاری شخصیات کی طرف سے بیجامگر شدید دبائوکاسامنا ہے ۔آپ نے کس کی اجازت سے کشمیریوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کیا،ایساایک صوبائی وزیراوران کے وفادارچیئرمین نے ان سے بازپرس کرتے ہوئے پوچھاہے۔ایک صوبائی وزیرسمیت چنداعلیٰ سرکاری حکام ایک سپرنٹنڈنٹ سے حسد کی آگ میں جل اوران کیخلاف محکمانہ کارروائی کاجوازڈھونڈ رہے ہیں۔ افشاں لطیف کی بیٹیوں سمیت بھارت کیخلاف پرامن احتجاجی مظاہرے میں شرکت کوبنیادبناتے ہوئے کاشانہ پربیجاپابندیاں لگادی گئی ہیں اورانہیں وہاںسوشل سرگرمیوں سے روک دیاگیا ہے۔کاشانہ کاماہانہ فنڈ روک لیا گیا ہے اوروہاں فاقوں کی نوبت آگئی ہے جبکہ فیسوں کی عدم ادائیگی کے سبب بیٹیاں اپنے اپنے تعلیمی اداروں میں جانے سے قاصر ہیں۔کئی مائوں نے باامرمجبوری اپنی بیٹیوں کو کاشانہ سے اپنے گھروں میں واپس لے جانے کی خواہش ظاہرکی ہے ۔کاشانہ وہ ادارہ ہے جس کا وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدارنے کئی بار دورہ کیا اوروہاں افشاں لطیف کی طرف سے ہونیوالی دوررس اصلاحات کوسراہا اورانہیں انعام بھی دیامگرصوبائی وزیر کے انتقام کانشانہ بن جانے کے بعد کاشانہ اب ویرانہ بنتاجارہا ہے ۔وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدارجس سپرنٹنڈنٹ کواس کی خدمات اوراصلاحات پرشاباش اورانعام دیتے رہے ہیں ان کاایک صوبائی وزیر اس نیک نام افشاں

لطیف کونشان عبرت بنانے کے درپے ہے ۔مودی کے یارکہاں کہاں ہیں اورکس کس طرح تحریک آزادی کشمیرکے حامیوں کوہراساں کررہے ہیں۔پاکستان کے اندرجہاںمادروطن کے محافظ اداروں کو تنقیدبرائے تنقید کاسامنا ہے وہاں کاشانہ کویتیم وناداربیٹیوں کیلئے آشیانہ بنانے اورشیرخوارکشمیریوں کے حق میں آوازاٹھانے والی ایک ماں افشاں لطیف ایک زورآوراورمنتقم مزاج صوبائی وزیرکے نشانے پر ہیں۔ایک باریش سیاستدان نے ریاست اورریاستی اداروں پرحملے کرتے ہوئے انتہائی حقارت اورسیاسی مہارت کامظاہرہ کرتے اورکشمیر کی وکالت کرنیوالے وزیراعظم عمران خان کواندرونی سیاسی چیلنجزمیں الجھاتے ہوئے کشمیرکاز کوبری طرح بلڈوزکردیا ہے جبکہ دوسری طرف پنجاب کے ایک صوبائی وزیرنے یرغمال کشمیریوں کے ساتھ اظہاریکجہتی

کرنے پرافشاں لطیف کومنصب سے ہٹانے کابیڑااٹھالیاہے۔اگرجے یوآئی کے دھرنے کی کوریج کیلئے خواتین صحافیوں کوروکنا درست نہیں توپنجاب میں کاشانہ سمیت صوبائی اداروں میں خدمات انجام دینے والی خواتین کو خوامخواہ پریشان اورہراساںکرنابھی ہرگزجائز نہیں ۔پنجاب میں خواتین کوہراسا ں کرنیوالے ہوش کادامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔پنجاب میں چندمافیا ممبرزافشاں لطیف کوکس کس” انکار” کی سزادے رہے ہیں ،اس سلسلہ میں فوری اور اعلیٰ سطحی شفاف تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔کاشانہ سمیت صوبائی” اداروں” کوکس کس کے مذموم” ارادوں” سے خطرہ ہے ،وزیراعظم عمران خان ،گورنر پنجاب چوہدری محمدسرور،وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزداراورپنجاب کے زیرک اورانتھک صوبائی وزیراطلاعات میاں اسلم اقبال کو براہ راست یہ

دیکھناہوگا۔ ہمارے ہاں کام بلکہ احسن انداز سے کام کرناکام نہ کرنے سے بڑی مصیبت بن جاتا ہے۔ریاستی اداروں میں چوروں اورکام چوروں سے زیادہ انتھک اورپرخلوص اندازسے خدمات انجام دینے والے عہدیداران اورکارکنان کوکٹہرے میںکھڑاکیاجاتا ہے۔جوایمانداری سے فرض منصبی انجام دیتے ہیں انہیں بنیادی حقوق نہیں ملتے اورجواپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے حقوق پربھی حق جماتے ہیں وہ بحیثیت شہری اپنے کسی فرض کی بجاآوری کیلئے تیار نہیں۔حقوق کی دہائی دینے والے اگر اپنے فرض بھی ادا کرناشروع کردیں توہمارامعاشرہ دیرینہ مسائل سے پاک ہوجائے۔مہذب ملکوں میں سرکاری ونجی اداروں میںمستعد افراد کی کارکردگی کوسراہاجاتا ہے مگرہمارے ہاں الٹا ان کی ٹانگیں کھینچی بلکہ پسندناپسندکی بنیادپر گردنیں تک اڑادی جاتی ہیں۔ہم لوگ عمدہ

کارکردگی کامظاہرہ کرنے، اپنانام بنانے یاچمکانے پراس قدر محنت نہیں کرتے جس قدردوسرے کانام بگاڑنے یامٹانے پر”زراورزور”لگاتے ہیں۔کاشانہ ویلفیئرہوم کی انتھک سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے اپنی کمٹمنٹ اورقابلیت سے کاشانہ کی کایاپلٹ دی ہے ،اب شہرلاہوراورپنجاب سمیت چاروں صوبوں سے اہم شخصیات کاشانہ کادورہ کرنے کیلئے آتی ہیں۔کاشانہ میں صفائی ستھرائی اورڈسپلن سمیت مجموعی نظام کی مثال دی جاتی ہے۔ انہوں نے کاشانہ میں مقیم یتیم وناداربیٹیوں کومعیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت اورکردارسازی پر فوکس کیا ہوا ہے۔ پچھلے دنوں انہوں نے کاشانہ میں مقیم یتیم وناداراورمستحق بیٹیوں کے ہمراہ معتوب ومغلوب کشمیری بھائی بہنوں کے حق میں جبکہ مودی سرکار کی بدترین بربریت کیخلاف پرامن احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی جس پربھارت کے بھگت ان پربرہم ہوگئے اورانہیں شوکازنوٹس ایشوکر تے ہوئے بیجاپابندیاں عائدکردیں۔وہ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ اورقلم کاروں کی عالمی تنظیم ورلڈکالمسٹ کلب کے پلیٹ فارم سے دومختلف مگر منفرد احتجاجی مظاہروںمیں شریک ہوئی تھیں انہیں پاکستان اور بھارت سمیت دنیا بھر کے بڑے اخبارات نے نمایاں کوریج دی اوران کے نتیجہ میں کشمیرکازکوانتہائی تقویت ملی۔کاشانہ کی تعمیری اورفلاحی سرگرمیاں دوسرے صوبائی اداروں کیلئے قابل تقلید ہیں۔کاشانہ ویلفیئرہوم میں مقیم بیٹیوں نے اپنے ادارے میں ایک دیوار کاحصہ ”کشمیروال” کے طورپرمخصوص کیا ہوا ہے جہاں انہوں نے کشمیریوںکادرد ظاہرکرنیوالی تصاویرآویزاں کی ہوئی ہیں۔کاشانہ کی بیٹیوں کوجموں وکشمیر کی صورتحال اوریرغمال کشمیریوں کی حالت زارکابھرپورادراک ہے اوروہ تعلیمی وتفریحی سرگرمیوں سے محروم کشمیری بچوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنااپنافرض بلکہ خودپرقرض سمجھتی ہیں۔جس ریاست کے صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی،وزیراعظم عمران خان اوروزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار،وزیراطلاعات میاں اسلم اقبال اور وفاقی وصوبائی وزراء بھارتی بربریت کیخلاف سراپااحتجاج ہوںوہاں کاشانہ کی سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کومظلوم ومحکوم کشمیریوں سے اظہار ہمدردی کی پاداش میں انتقام کانشانہ بنانااورہراساں کرنا ایک بڑاسوالیہ نشان ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار نے کئی بارکاشانہ ویلفیئرہوم کے سرپرائزوزٹ اوراس کے مختلف شعبہ جات کامعائنہ کرتے ہوئے انتھک سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کی انتظامی صلاحیت اوردوررس اصلاحات کوسراہا ہے۔کاشانہ کوماڈل ادارے کاسٹیٹس ملنا افشاں لطیف کی قابلیت اورخدمات کاثمر ہے۔ کوئی ریاستی ملازم کسی حکمران یا سیاستدان کاغلام نہیں ہوتا،وزیروں کوسرکاری اداروں میں ماورائے آئین اوربیجامداخلت سے رو کناہوگا۔ملک میں آئین کی حکمرانی ہے ، مٹھی بھرعاقبت نااندیش سیاستدان اپنی مرضی ومنشاء کاقانون اپنے پاس رکھیں۔کوئی صوبائی وزیرریاست میں ریاست نہیں بناسکتا ۔وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار کاشانہ کے معاملات سے بخوبی آگاہ ہیں ،وہ سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کواپنے آفس مدعواوران سے معلوم کریں انہیں اورکاشانہ کی بیٹیوں کوپنجاب کے کس صوبائی وزیر نے خوامخواہ پریشان کیا ہوا ہے۔کاشانہ کی نیک نام خاتون سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کوپنجاب کاایک صوبائی وزیرمسلسل زچ کررہا ہے ۔اگر وزیربازنہ آیا تویقینا انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے قانون دان اسے بے نقاب اوراس کامحاسبہ کریں گے۔کشمیرکازکیلئے کاشانہ کی توانا آوازبھارتی ایوانوں سمیت دنیابھر میں سنی گئی ۔ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کی باضابطہ دعوت پرسپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کاشانہ میںبیٹیوں کے ساتھ کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کیلئے پرامن احتجاجی مظاہرے میں شریک ہوئی تھیں،کیاکشمیرکاز کیلئے آوازاٹھانا اورمظاہرے میں شریک ہوناگناہ ہے ۔پنجاب کاایک وزیرسپرنٹنڈنٹ کاشانہ کو ہراساںکرنے کیلئے منفی ہتھکنڈوں پرکیوںاترآیا ہے۔ پاکستانیوں کی کشمیر کاز کے ساتھ کمٹمنٹ قابل رشک ہے ،جولوگ سرکاری اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں انہیں کشمیر کازکیلئے آواز اٹھانے سے نہیں روکا جاسکتا ۔پنجاب کاایک منتقم مزاج صوبائی وزیر جس کی اپنی کوئی محکمانہ کارکردگی نہیں وہ مسلسل کاشانہ کے آشیانہ پربجلیاں گرارہا ہے۔ کسی وزیرکی طرف سے سرکاری آفیسرزاوراہلکاروں کوڈرانادھمکانا اوردبانا برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ سیاسی اشرافیہ کے چند بے لگام اوربدزبان عناصر کسی انسان اوراہلکار کو اپنے انتقام کانشانہ نہیں بناسکتے ۔ کشمیر کاز کاعلم بلنداورتحریک آزادی کشمیر کے حق میں منفرداورموثرانداز میں قابل رشک کام کرنے پرکاشانہ کونشانہ بنایاگیا۔سوشل و یلفیئر حکام خود کوئی کام کرتے ہیں اورنہ انہیں کسی دوسرے کے کام کوسراہنا آتا ہے وہ الٹا اپنے ادارے کی نیک نامی کاسبب بننے وا لی افشاں لطیف کیخلاف سرگرم ہیں۔سوشل ویلفیئرحکام کااپنے آفیسرز کے ساتھ حسد اوران کے ساتھ تعصب کامظاہرہ کرناانتہائی اقدام ہے ۔ کاشانہ کی بیٹیوں کے ہمراہ کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کرنے کی پاداش میں سوشل ویلفیئرحکام کی طرف سے سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کوپریشان کرناہرگزبرداشت نہیں کیاجاسکتا ۔ کشمیرکاز کیلئے کاشانہ کی تعمیری سرگرمیوںکوہرکسی نے سراہاہے مگرسوشل ویلفیئر حکام نے اپنے ادارہ کی نیک نام،مستعداورانتھک سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کوکٹہرے میں کھڑاکردیا۔ قوم کاہرفردپچھلی سات دہائیوں اوربالخصوص حالیہ تین ماہ سے کشمیری بھائی بہنوں کی آزادی کیلئے مسلسل آوازاٹھارہا ہے لہٰذاء کاشانہ کی سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے بچوں سمیت کشمیرکاز کیلئے پرامن مظاہرے میں حصہ لیاجوبھارت سمیت دنیا بھر کے اخبارات میں چھپا تواس میں انہوں نے کیابراکیا۔ سوشل ویلفیئر حکام کی طرف سے افشاں لطیف کوہراساں کئے جانے کیخلاف فوری اورسخت ایکشن لیا جائے ۔پنجاب حکومت اپنے صوبائی وزیرسمیت سوشل ویلفیئر کے متعصب حکام کیخلاف سخت اقدام کرے ۔ اگرسوشل ویلفیئرحکام انتقامی روش سے بازنہ آئے توانٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کی طرف سے ان کیخلاف عدالت عالیہ سے رجوع کیا سکتاہے۔