میرٹ کی پالیسی ، تحریک انصاف کا اعزاز۔؟تحریر: غلام مرتضیٰ باجوہ

تحریک انصاف حکومت کی آمد سے قبل اور آمد کے بعد ہر طرح ایک ہی نعر ہ تھا ، تبدیلی آئی نہیں تبدیلی آگئی ہے ۔پاکستان میں ایک طرف بد عنوانی کے انسداد کے نام پر کی جانے والی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے تو دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کے درمیان فاصلے کم ہو رہے ہیں۔ تاریخی حوالے سے عالمی اداروں اور میڈ یارپورٹس ، سیاسی جماعتو ں کے سربراہوں کے بیانات کا جائزہ لیا جائے تواس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کا شمار کرپٹ ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔ اس لیے قیام پاکستان سے ایک ہی رٹ سنائی دیتی ہے۔ احتساب اور وہ بھی سب کا۔ مگر کب؟ ہر نئی آنے والی حکومت اپنی پیش رو حکومت کے احتساب کا نعرہ بلند کرتی ہے۔ کیا کسی کا کوئی احتساب ہوا؟ کسی کو کوئی خاطر خواہ سزا ہوئی؟ ملک کا خاطر خواہ

پیسہ اس مد میں خرچ ہوجاتا ہے۔ عدالتوں کا وقت الگ برباد ہوتا ہے۔ قوم کو الگ سے بیوقوف بنایا جاتا ہے۔ قوم کو یہ نوید سنا دی جاتی ہے کہ اب کی بار سب کا احتساب ہوگا اور اتنا پیسہ واپس قومی خزانے میں آئے گا کہ ملک میں دودھ کی نہریں بہنا شروع ہو جائیں گی۔ دودھ کی نہریں تو نہ بہہ سکیں البتہ ملک مزیدمقروض ہو گیا ۔ اگر پاکستان کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اتنے حیران کن واقعات سامنے آئیں گے کہ ان پرایک پوری دلچسپ کتاب لکھی جاسکتی ہے، جو ہاتھوں ہاتھ فروخت بھی ہوجائے گی۔اگر پوری سیاسی تاریخ کو چھوڑ کر صرف وزرائے اعظم کے عہدہ سنبھالنے، عہدے پر قائم رہنے اور پھر گھر روانگی کی تاریخ پر بھی نظر دوڑائی جائے گی تو دلچسپ واقعات نظر آئیں گے۔اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ طریقہ کار وہی ہے صرف بیانات اور چہرے تبدیل ہوئے ہیں ، موجودہ پنجاب حکومت پر الزام ہے کہ اب تک کئی افسروں کی تعینات میرٹ سے ہٹا کراپنی اپنی دوستوں کو نوازنے کے لئے کیںجن میں لاہور میڑوپولیٹن کارپوریشن میں عامرسعید کی تعیناتی سرفہرست ہے یہ افسرطارق سعید بٹ سے کئی سال جونیئر ہے ۔جو پنجاب حکومت کا سیا ہ کارنامہ ہے جو تحریک انصاف کی حکومت کے لئے آئند چنددنوں بعد ایک ڈرناخوب ثابت ہوگا ۔ اپوزیشن جماعتوں میں یہ مسئلہ بھی زیر بحث ہے کہ ایک کروڑکی آبادی پر مشتمل شہر کے فنڈز کی نگرانی کرنے کے لئے جونیئر افسرکی تعیناتی کیوں کی گئی ؟۔اس سوال کا جواب حکومت پنجاب کوچند دنوں میں ملنے والا ہے ۔ کیونکہ وزیراعظم سمیت تمام وفاقی ،صوبائی وزراء قانون سے بالاتر نہیں ۔ غیر قانونی تعیناتیوں میں ملوث تمام افراداحتساب سے نہیں بچ سکتے کیونکہ جس طرح احتساب کا عمل جاری

وساری ہے ۔شہر،شہر،گائوں گائوں میں عوام یہ بحث جاری ہے کہ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک ہی دفعہ سب چوروں کا محاسبہ کیا جائے تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو سکے۔ قوم اب مزید لولی پاپ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اب سمے بدل رہا ہے۔ نیکی اور بدی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ اچھے برے کی تمیز کرنی ہوگی۔ ادارے اپنے آپ کو ٹھیک کر لیں اور عوامی نمائندے بھی اپنا قبلہ درست کر لیں۔ روز روز بیوقوف نہیں بنا جا سکتا اور نہ ہی سادہ لوح عوام کو بیوقوف بنایا جا سکتا ہے۔ اب ہر شخص کو اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا۔ اچھے کو اچھا اور برے کو برا کہنا ہوگا۔ اپنی ذات کا محاسبہ کرنا ہو گا۔ ہر شخص تہیہ کر لے کہ اب نو کرپشن۔ اپنے اپنے جائز وسائل سے گزارا کرنا ہوگا۔ چادر دیکھ کے پاوں پھیلانا ہوں گے۔ بقا اسی میں

ہے۔ چیز بننے میں ضرور وقت لیتی ہے مگر تباہ و برباد ہونے میں ایک لمحہ بھی نہیں۔ دشمن دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ اب کی بار بھی حالات کا صحیح ادراک نہ کر سکے تو انجام اچھا نہیں ہو گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو ان غیر قانونی تعیناتیوں کے حوالے سے نوٹس لینا چاہئے تاکہ میرٹ سے ہٹاکر تعیناتیوں افسروں پائے جانے والے تحفظات کا ازالہ ہوسکے ۔ اور تبدیلی کے اثرات برقراررہیں۔کیونکہ اس قبل چھوٹے چھوٹے الزامات پر کئی صوبائی ووفاقی وزراء ، اعلیٰ افسروں کی تبدیلی وزیراعظم عمران خان کا بڑاکارنامہ ہے جس کی بناء پر یہ اعزازصرف اور صرف تحریک انصاف کی حکومت کو حاصل ہے.