حقانی نیٹ ورک کی تین اہم شخصیات رہا کرنے کا اعلان ہو گیا

کابل(نیوز ڈیسک)افغان حکومت نے طالبان کے حلیف حقانی نیٹ ورک کے تین سینیئر رہنماؤں کی مشروط رہائی کا فیصلہ کیا ہے۔ ان طالبان قیدیوں کو رہائی ممکنہ طور پر طالبان کی قید میں موجود دو مغربی پروفیسروں کی رہائی کے بدلے میں دی جائے گی۔افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کے حلیف حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے تین اہم قیدیوں کی مشروط رہائی کا اعلان کیا ہے۔ غنی کے مطابق ان طالبان قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں سن 2016 سے اغوا شدہ دو مغربی پروفیسروں کی رہائی کی بات چیت بھی جاری ہیں۔ مغوی پروفیسروں میں ایک کیون کنگ کا تعلق امریکا اور دوسرے ٹموتھی ویکس کا آسٹریلیا سے

ہے۔ یہ دونوں افغان دارالحکومت کابل میں واقع امریکن یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے۔یہ ابھی تک واضح نہیں کہ مغوی پروفیسروں کو طالبان رہا کر دیں گے۔ افغان صدر نے صحافیوں کو بتایا کہ پروفیسروں کر رہائی حاصل ہونے سے غیرسرکاری سطح پر حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل شروع ہونے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ ابھی تک طالبان کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے سے انکاری ہیں اور وہ اسے امریکا کی کٹھ پتلی قرار دیتے ہیں۔پروفیسروں کی رہائی کے بدلے میں جن سینیئر اور اہم طالبان قیدیوں کو رہائی ملے گی، اْن میں انس حقانی بھی شامل ہے۔ رہائی پانے والے ان تینوں قیدیوں کو بیرونی ممالک میں گرفتار کرنے کے بعد افغانستان لایا گیا تھا۔ انس حقانی کی گرفتاری سن 2014 میں خلیجی ریاست بحرین میں ہوئی تھی۔ وہ حقانی نیٹ ورک کے لیڈر جلال الدین حقانی کے بیٹے اور اہم کمانڈر سراج الدین حقانی کے چھوٹے بھائی ہیں۔افغان صدر اشرف غنی نے واضح کیا کہ ان قیدیوں کو مغوی پروفیسروں کی رہائی کے بدلے میں ہی رہا کیا جائے گا۔ یہ اس وقت بگرام کی سخت سکیورٹی والی جیل میں ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان تینوں قیدیوں کی رہائی کے انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔ غنی نے دونوں پروفیسروں کی صحت مسلسل خراب ہونے کا بھی بتایا ہے