بابری مسجد پر فیصلہ بھارتی سپریم کورٹ نے نہیں بلکہ کس نے کیاحریت رہنما نے سب کچاچٹھا کھول دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما عبدالحمید لون نے کہا ہے کہ نریندرا مودی کا بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگائی کو بابری مسجد کے حوالے سے لئے گئے فیصلے پر مبارکباد باد دینا اس بات کی عکاس ہے کہ یہ فیصلہ آر ایس ایس کا فیصلہ تھا۔بھارت ایک ہندو انتہا پسند ریاست بننے جارہاہے۔ اپنے ایک بیان میں عبدالحمید لون نے کہا کہ مودی ایک فاشسٹ شخص ہے۔خط سے واضح ہوگیا ہے کہ بابری مسجد کا فیصلہ انتہا پسند

ہندو ذہنیت کی عکاس ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے مذہبی حقوق بھی سلب کرنے کا مکمل فیصلہ کیا ہے۔ ہندو ریاست قائم کرنے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں سات ہزار مندر تعمیر کئے جارہے ہیں۔ حریت رہنما کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں مسجدوں پر تالے لگا دیے گیے ہیں اور مقبوضہ کشمیر کے کئی علاقوں میں نماز جمعہ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مسجدوں میں لاوڈ سپیکروں پر واعظ خانی اور خطبات پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔