نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست لاہور ہائیکورٹ میں سماعت کیلئے مقرر، جس پر سماعت آج ہی ہوگی

لاہور(نیوزڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی ہے، جسٹس علی باقرنجفی کی سربراہی میں 2رکنی بنچ کچھ دیر میں کیس کی سماعت کرے گا،حکومت نے نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے 7ارب کے بانڈز جمع کروانے کی شرط رکھی تھی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدرشہبازشریف نے پارٹی قائد نوازشریف کا نام ای سی ایل سے غیرمشروط نکالنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔عدالت نے درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی ہے ، بتایا گیا ہے کہ جسٹس علی باقرنجفی کی سربراہی میں 2رکنی بنچ کچھ دیر میں کیس کی

سماعت کرے گا۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کی قیادت نے حکومت کی ایمندنٹی بانڈز شرط کو مسترد کر دیا۔شہباز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت تاوان لینا چاہتی ہے،زر ضمانت کی شرط قبول نہیں۔تفصیلات کے مطابق لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کےصدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ رات کو فیصلہ کیا گیا فی الفور عدالت کا دروازہ کھٹکٹھائیں گے۔مسلم لیگ ن کی وکلاء ٹیم لاہور ہائیکوٹ میں موجود ہے۔نواز شریف کے حوالے سے حکومتی فیصلہ سب کے سامنے ہے،شہباز شریف کا کہنا ہے کہ نواز شریف، میں نے اور میری جماعت نے حکومت کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نہ تو این آر او لے سکتے ہیں اور نہ ہی دے سکتے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف بیمار اہلیہ کو چھوڑ کر بیٹی کے ساتھ پاکستان واپس آئے۔انہوں نے کہا کہ 6جولائی کو نواز شریف کے خلاف فیصلہ آیا اور 13جولائی کو وہ اپنی بیمار اہلیہ کو چھوڑ کر پاکستان آئے اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلے گئے،کیا اس وقت بھی بانڈز مانگے گئے تھے۔بانڈر کی صورت میں عوام کو دھوکے کی طرف لے کر جانا چاہتے ہیں کہ ہم نے 7 ارب نکلوا لیے۔یہ بانڈز کی آڑ میں تاوان لینا چاہتے ہیں۔