شہباز شریف نے حکومت کی انڈیمنٹی بانڈز کی شرط مسترد کرتے ہوئے حکومت کے خلاف کیا سخت الفاظ استعمال کیے، جانئے

لاہور(نیوزڈیسک)پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت نے حکومت کی ایمندنٹی بانڈز شرط کو مسترد کر دیا۔شہباز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت تاوان لینا چاہتی ہے،زر ضمانت کی شرط قبول نہیں۔تفصیلات کے مطابق لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کےصدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ رات کو فیصلہ کیا گیا فی الفور عدالت کا دروازہ کھٹکٹھائیں گے۔مسلم لیگ ن کی وکلاء ٹیم لاہور ہائیکوٹ میں موجود ہے۔نواز شریف کے حوالے سے حکومتی فیصلہ سب کے سامنے ہے،شہباز شریف کا کہنا ہے کہ نواز شریف، میں نے اور میری جماعت نے حکومت کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نہ تو این آر او لے سکتے ہیں اور نہ ہی دے سکتے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف بیمار اہلیہ کو چھوڑ کر بیٹی کے ساتھ پاکستان واپس آئے۔انہوں نے کہا کہ 6جولائی کو نواز شریف کے خلاف فیصلہ آیا

اور 13جولائی کو وہ اپنی بیمار اہلیہ کو چھوڑ کر پاکستان آئے اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلے گئے،کیا اس وقت بھی بانڈز مانگے گئے تھے۔بانڈر کی صورت میں عوام کو دھوکے کی طرف لے کر جانا چاہتے ہیں کہ ہم نے 7 ارب نکلوا لیے۔یہ بانڈز کی آڑ میں تاوان لینا چاہتے ہیں۔نواز شریف مشکل صورتحال کا مقابلہ کر رہے ہیں۔نواز شریف کی صحت کے معاملے پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم نے سنگدلی کا کھیل کھیلا۔حکومت کا بانڈز لینے کا فیصلہ کسی صورت قبول نہیں۔عمران خان انسانی مسئلے کو سیاسی بنا رہے ہیں۔لیکن نواز شریف صبر وتحمل سے اس صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔جب کہ دوسری جانب ن لیگ نے نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کے لیے درخواست عدالت میں جمع کروا دی ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کے لیے درخواست لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروائی۔