حکومتی درخت کی جڑیں کاٹ دی گئیں،اب آخری جھٹکا دے کرگرانا ہے، مولانافضل الرحمن

لاہور(نیوز ڈیسک) جمیعت علماء اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ چند روز بعد ہم شہروں میں احتجاج کیلئے جائیں گے، اب یہ تحریک رکے گی نہیں، بلکہ تیز تر ہوتی جائے گی، کارکنان کوہدایت ہے کہ صبح سے مغرب تک دھرنا دیں، دن کے وقت راستے بندکرکے احتجاج ریکارڈ کروائیں، حکومتی درخت کی جڑیں کاٹ دی گئیں، اب ایک آخری جھٹکا دے کرگرا دینا ہے۔نوشہرہ میں دھرنے سے خطاب میں مولانا نے کہا کہ ’پلان بی کے تحت بین الصوبائی شاہراہوں پر دھرنے صرف دن میں ہوں گے رات میں انہیں کھول دیا جائے گا‘۔سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’حکومت کی چولیں ہل چکی ہیں، جڑیں کٹ گئی ہیں، دیوارہل چکی ہے، اب ایک دھکا دے کرگرا دینا ہے‘۔انہوں نے کہا کہ 24 گھنٹے کے اندر آپ کی دعوت پر پورا پاکستان بند ہوگیا، کراچی، پنجاب، بلوچستان سے جانے والے راستے بند ہیں، افغانستان سے

چمن اور کوئٹہ آنے والے راستے بند کریں گے، اسلام آباد شاہراہ، شاہراہ قراقرم بند ہے، پنجاب میں ڈی آئی خان آنے والے راستے بند ہیں۔مولانا نے شرکاء سے کہا کہ ’آپ نے بتادیا ہم پورا پاکستان بند کرسکتے ہیں، جب راستے میں بڑا پتھر پڑا ہو تو لوگوں کو مشقت اٹھانی پڑتی ہے، اس وقت بڑا پتھر موجودہ حکومت ہے، ہم نےعوام کی طاقت سے اس پتھر کو ہٹھانا ہے، ہم پاکستان کو نہ افغانستان، نہ عراق اور نہ لیبیا بنانا چاہتے ہیں‘۔اپنے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’دھرنے کے شرکاء سے گزارش ہے کہ دھرنا دن میں جاری رکھیں، رات میں نہیں، ابھی ہم شہروں سے باہر دھرنے دے رہے ہیں، چند روز میں شہروں کے اندر بھی دھرنے دیں گے‘۔انہوں نے کہا کہ ’ہم عوام کے خلاف نہیں، حکومت کے خلاف نکلے ہیں، دھرنوں کے ذریعے عوام کی مشکلات نہیں بڑھانی ہیں، تمام صوبائی جماعتوں سے کہا ہے کہ راہ چلتے لوگوں کیلئے راستے کھلے رکھنے ہیں۔