لاہور میں دنیا کے سب سے وزنی 10سالہ بچے کی کامیاب سرجری

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور کے شالیمار اسپتال میں دنیا کے سب سے وزنی بچے کی کامیاب سرجری کر لی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق 10 سالہ 200 کلو وزنی بچے کی کامیاب سرجری سے ستر کلو وزن کم کر لیا گیا جس کے بعد اب بچے کا وزن 130 کلو رہ گیا ہے۔ دس سالہ ابرار کا ستر کلو وزن پانچ ماہ میں کم کیا گیا۔ یہ سرجری معروف سرجن ڈاکٹر معاذ نے کی۔دس سالہ ابرار گجرات کا رہائشی ہے جسے چھ ماہ قبل شالیمار اسپتال لایا گیا۔ ابرار کا نام سب سے وزنی بچے کے طور پر گنیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ کے لیے بھی تجویز کیا جا چکا ہے۔ ابرار کی سرجری کرنے والے ڈاکٹر معاذ نے بتایا کہ جب ابرار کو لایا گیا تو اسے ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کی شکایت تھی۔ ابرار اپنے وزن کی وجہ سے دو چار قدم چلنے سے بھی قاصر تھا۔ابرار کا کہنا تھا کہ میرا وزن کم ہو گیا ہے جس کے بعد مجھے اچھا لگ رہا ہے ، مزید وزن کم ہونے

پر میں اسکول جاؤں گا اور پڑھائی کروں گا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل ڈاکٹر معاذ نے ہی 330 کلو وزنی نور الحسن کی سرجری کی تھی لیکن وہ ہارٹ اٹیک کے باعث جانبر نہیں ہو سکے تھے۔ 330 کلو وزنی نور الحسن کو 18 جون 2019ء کو اسپتال منتقل کیا گیا اور 28 جون کو آپریشن ہوا۔نور الحسن نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے مدد کی اپیل کی تھی جس کے بعد آرمی چیف کی ہدایت پر ہیلی کاپٹر بھجوایا گیا اور انہیں لاہور منتقل کیا گیا تھا۔ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد سے نور الحسن کو پاک آرمی کے ہیلی کاپٹر میں لاہور منتقل کیا گیا تھا۔ جس کے بعد 28 جون 2019ء کو شالیمار اسپتال میں نور الحسن کا آپریشن کیا گیا ۔ نور حسن کا آپریشن پونے دو گھنٹے تک جاری رہا۔ لیکن بد قسمتی سے 8 جولائی کی صبح نور الحسن حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے نور الحسن خالق حقیقی سے جا ملے۔