اپوزیشن جماعتوں کے پیغام پر مولانا نے آزادی مارچ ختم کرنے کا اعلان کردیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) جمیعت علمائے اسلام (ف) نے آزادی مارچ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اعلامیہ میں کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی اپیل پر آزادی مارچ ختم کیا گیا ، اکرم درانی کا کہنا ہے کہ نئے پلان کے تحت ہفتے میں 1،2 جلسے جلوس ہوں گے . تفصیلات کے مطابق جمیعت علمائے اسلام (ف) نے مارچ ختم کرنے کا اعلامیہ جاری کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی اپیل پر آزادی مارچ ختم کیا گیا ، رہنما جے یو آئی راشد محمود کا کہنا ہے کہ شاہراہوں پر دھرنے بھی نہیں ہوں گے .جے یو آئی کے راہنما حافظ حسین احمد نے کہا تھا کہ جواب شکوہ آنے کے بعدہم اپنے مقاصدمیں کامیاب ہوگئے،عمران

خان کی جماعت کوجس طرح اکثریت سے نوازاگیا اس پر شکوہ تھا، مذاکرات کے حوالے سے بنائی گئی کمیٹیوں میں چوہدری برادران کی کمیٹی کے سپانسروہ نہیں تھے جو پہلے کمیٹیوں کے تھے . گذشتہ روز اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے کنوینئر اکرم خان درانی نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو میں کہا تھا کہ پلان بی کے طریقہ کار کو تبدیل کر دیا ہے، نئے پلان کے تحت ہفتے میں 1،2 جلسے جلوس ہوں گے، جلسے جلوس میں تمام اپوزیشن پارٹیاں شرکت کریں گی، تاجروں اورعوام کوتکالیف کی وجہ سے پلان تبدیل کیا ہے .اس سے قبل اسلام آباد میں اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد اپوزیشن کے دیگر راہنماؤں احسن اقبال،فرحت اللہ بابر کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اکرم خان درانی نے کہا تھا کہ اس وقت حکومت دیوار سے لگ چکی ہے ، پلان بی کے بعد کسی اور پلان کی ضرورت نہیں رہے گی . اکرم درانی کا کہنا تھا کہ رہبر کمیٹی نے حکومت پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی کو درست قرار دیا، نوازشریف کے بارے عدلیہ کے فیصلے پر عمران خان بوکھلا گئے عمران خان قوم پر رحم کریں اور گھر جائیں .انھوں نے مزید کہا تھا اب سڑکیں بند نہیں ہوں گی عوام کو مشکلات پیش آرہی ہیں کل اور آج سے شاہراہیں بند نہیں کی جائیں گی، تمام اضلاع کی سطح پر مشترکہ جلسے ہوں گے انہوں نے کہا کہ کل پرسوں جلسوں کا پلان سامنے آئے گا ، اے پی سی بلائی جائے گی ، مولانا فضل الرحمن اے پی سی بلائیں .