جعلی ہائوسنگ سکیموں کی بھر مار ، اداروں کی خاموش ۔۔۔ تحریر: غلام مرتضیٰ باجوہ

ہم گھر سے باہر جانے سے پہلے اکثر شیشہ دیکھتے ہیں کیونکہ ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہم کیسے لگ رہے ہیں۔ لیکن ہماری ظاہری شکل وصورت سے زیادہ اہم ہماری سیرت ہے کیونکہ اِس سے یا تو ہماری خوبصورتی میں چار چاند لگ سکتے ہیں یا پھر یہ ماند پڑ سکتی ہے۔افسوس کی بات ہے کہ زیادہ تر لوگ اپنی ظاہری شکل وصورت کو نکھارنے کے لیے تو بہت کچھ کرتے ہیں مگر اپنی سیرت کو سنوارنے کے لیے کچھ نہیں کرتے ۔اس وجہ سے وہ اپنے مطلب کے لیے تھوڑی بہت بے ایمانی کرنے کو غلط نہیں سمجھتے۔ایک ایماندار شخص کو صاف ضمیر،ذہنی سکون، عزت اور دوسروں کا بھروسا حاصل ہوتا ہے۔ کیا آپ بھی یہ نعمتیں حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ صاحبزادہ فیض الرحمن درانی نے چند ماہ قبل ایک اجتماع سے خطاب

کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک سب کو یکساں انصاف نہ ملے، سب لوگ ایماندری سے کام نہ کریں اگر ہم ملک میں سکون اور خوشحالی چاہتے ہیں تو سب سے پہلے خود ایماندار اور سچا بننا ہو گا پاکستان کی تعمیر و ترقی کیلئے یہی اولین شرط ہے۔ ایک بدو حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کیا، بدو نے حضور اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے صرف ایک بات کی نصیحت فرمائیں جس پر میں دل و جان سے عمل کروں، محسن انسانیت حضور اکرم ﷺ نے اس بدو کو سچ بولنے کا حکم دیا، بدو نے حکم کی اطاعت کی اور ایک کامیاب مسلمان کی حیثیت سے زندگی گزاری۔نوجوانوں کو سچائی، اخلاقیات اور ایماندری کی ترغیب دینا چاہیے، حقیقی کامیابی سچائی، ایمانداری اور خودداری کے ذریعے ممکن ہے، فرد اور معاشرے کی تعمیر کیلئے بنیادی اخلاقی قدروں کی اہمیت مسلمہ ہے۔ خلفائے راشدین نے امت مسلمہ کو جھوٹ، خوشامد اور جہالت کے اندھیروں سے نکالنے کیلئے کام کیا۔ صوفیائے کرام اور دیگر مسلم اکابرین مسلم قوم کو باعزت اور بلند مقام دلانا چاہتے تھے اس کیلئے انہوں نے ہمیشہ سچائی، ایمانداری اور دیانت کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی۔ صوفیائے کرام کی پاکیزہ زندگیاں سے درس ملتا ہے کہ انہوں نے امت مسلمہ کو ہمیشہ اخلاقی ہتھیاروں سے لیس ہونے کی نصیحت کی۔ انسان کو اس کی انسانیت کی وجہ سے اہمیت دینی چاہیے، معاشرے میں میرٹ کا بھرم اور مقام قائم ہونا چاہیے جس معاشرے میں شفافیت، احتساب اور میرٹ ہو گا وہ معاشرہ کبھی زوال پذیر نہیں ہو گا۔ ایمانداری اور خوداحتسابی پر قائم معاشرہ ملک و قوم کی ترقی کا باعث ہوتا ہے، اخوت، محبت، سچائی اور

ایمانداری پر قائم معاشرے سے بارود کی بو نہیں بلکہ خوشیوں اور بہاروں کی خوشبو آتی ہے، بے سکونی کے خاتمے کیلئے سچ، ایمانداری اور خود احتسابی پر عمل کرنا ہو گا۔اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ ہر انسان کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ میرا اپنا گھر ہوا ۔لیکن افسوس لاکھوں شہری اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے زندگی بھر کی کمائی پل بھر میں نوسربازوں کے حوالے کردیتے ہیں ۔اور سڑکوں پر آجاتے ہیں ۔شکرہے کہ ہماراملکی قانون ہرشہری کو تحفظ فراہم کرتاہے ۔لیکن چند سرکاری ملازمین اپنی حواس کی خاطر لوگوں کو ذلیل وخوار کرتے ہیں ۔جب وہ قانون کے شکنجہ میں آتے ہیں تو پھر مختلف مافیا کا سہارا لیتے ہیں۔۔۔متاثرین کو پریشان ہونے کے بجائے متعلقہ محکمہ سے رابطہ کرنا چاہئے سب سے متاثرین کی تعداد نئی

ہائوسنگ سوسائٹیاں کی ہے۔متاثرین کو محکمہ کوآپریٹوپنجاب سے رابطہ کرنا چاہئے کیونکہ ’’89’’44۔بی ۔رجسٹرارکا کسی کا انکوائری یامعائنہ کرنے کے دوران سیکشن 50۔اے کے تحت اختیارات استعمال کرنے کا اختیار۔رجسٹرار سیکشن 43کے تحت کسی انکوائری یا سیکشن 44یا سیکشن 44اے میں مخصوص کسی وجہ کی موجود گی ظاہر ہونے پر اپنی رائے پر سیکشن 43یاسیکشن 44۔اے کے اس کی جانب مجاز شخص کی درخواست پر سیکشن 5۔اے میں مخصوص اختیارات استعمال کرسکتاہے۔۔۔90’’44۔سی ۔ افسران کی برطرفی کا اختیار۔(1) رجسٹرار کسی سوسائٹی کے کسی بھی عہدے پر فائز کسی افسرکو برطرف کرسکتا ہے اگر وہ کی گئی انکوائری پر مطمئن ہے کہ مذکورہ افسر۔۔۔(i)۔سوسائٹی یا اس کے اراکین کے مفاد کے منافی طریق کار

کے مطابق کوئی اقدام کرتاہے ،یا۔۔۔(ii)۔اس ایکٹ ،قواعدیا ذیلی قوانین کے ذریعے بیان کردہ افسرکی اہلیت کا حامل نہیں رہاہے یاکسی نااہلیت کا حامل ہے ۔یا۔۔۔(iii)۔ نے ایسا اقدام کیا ہے جس کے لیے رجسٹرار سیکشن 50۔اے کے تحت اقدام کرنے کے لیے بااختیارہے ۔۔۔(2) ۔ ذیلی سیکشن (1) کے تحت کوئی بھی حکم متعلقہ افسرکو شنوائی کا معقول موقع فراہم کیے بغیر جاری نہیں کیا جائے گا ۔۔۔(3)۔برطرفی پر کوئی بھی افسرسوسائٹی سے متعلق کوئی افعال انجام دے گا۔۔۔(4) ۔ذیلی سیکشن (1) کے تحت حکم سے متاثرہ افسراپنی برطرفی کے حکم کی تاریخ سے سات دن کی مدت کے اندر حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ اپیلٹ اتھارٹی کو اپیل کرسکتاہے اورمذکورہ اتھارٹی کا فیصلہ حتمی ہوگا :تاہم اس سیکشن کی دفعات پنجاب پروانشل

کوآپریٹوبینک لمیٹڈپر لاگونہیں ہوں گی۔۔۔91(5) رجسٹرار تین ماہ تک کی مدت کے لیے سوسائٹی کی انتظامی کمیٹی کے ایسے رکن کو معطل کرسکتا ہے جس خلاف اس ایکٹ کے تحت انکوائری زیر سماعت ہے یا اس یقین کی وجوہات موجود ہیں کہ ایسے رکن نے سوسائٹی کے مفادات کو متاثرکرنے والی کوئی بے قاعدگی ، غیرقانونی اقدام ، دھوکہ دہی یا اقدام کیا ہے ۔۔۔44۔ڈی ۔رجسٹرار کا اہدایات دینے کا اختیار۔(1) جب رجسٹرار مطمئن ہے کہ مفادعامہ یا کسی سوسائٹی کے معاملات کو اس ارارکین یا جمع کنندگان یا سوسائٹی کے مفاد کے لیے نقصان دہ طریق کے مطابق چلائے جانے کے لئے سوسائٹیوں کو عمومی یا کسی سوسائٹی کو خصوصی طورپر ہدایات جاری کرنا ضروری ہے تو وہ ضروری ہدایات جاری کرسکتاہے اور ایسی سوسائٹی یا سوسائٹیاں جو بھی صورت ہو ، ایسی ہدایات کی تعمیل کی پابندہوں گی‘‘۔ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ کوآپریٹو پنجاب کے افسروں متاثرین کی دراسی کے لئے قانون پر عمل درآمد کرتے ہوئے محکمہ میں شامل کرپٹ مافیا کو الگ کرنا چاہئے تاکہ محکمہ کوآپر یٹو پنجاب کی کارگردکی اور اعتماد کی خوبصورتی کو چار چاند لگ سکتے ہیں ۔اورنوسربازوں کوشکست کا سامنا کرنا پڑے۔اور جعلی ہائوسنگ سکیموں کا خاتمہ ممکن ہوگا۔