دھرنے میں شرکت، انصار الاسلام کے چیف نے معافی مانگ لی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جمیعت علمائے اسلام ( جےیو آئی ) کے دھرنے میں شریک ہونے والے انصار الاسلام کے چیف اور سرکاری اسکول ٹیچرافسر محمد نے ایجوکیشن افسر سے معافی مانگ لی۔ذرائع کے مطابق افسر محمد نے چھٹی کے دوران اسلام آباد دھرنے میں شرکت پر معافی مانگتے ہوئے ایجوکیشن افسرضلع کرم کو تحریری وضاحت ارسال کر دی ہے۔وضاحتی مراسلے کے متن میں انہوں نے لکھا ہے کہ 4 ماہ کی چھٹی لی تھی جن کی منسوخی پراسکول میں حاضری دے دی تھی۔انہوں نے معافی مانگتے ہوئے لکھا کہ غلطی ہوگئی ہے، معافی چاہتا ہوں ،آئندہ ایسا

نہیں کروں گا۔واضح رہے افسر خان گورنمنٹ ہائی سکول ضلع کرم میں اسلامیات کا ٹیچر ہے۔ دھرنے میں شریک ہونے کے حوالے سے مشیر تعلیم خیبرپختونخوا نے نوٹس لیتے ہوئے ان کی چھٹی منسوخ کر دی تھی اور انہیں اسکول رپورٹ کرنے کی ہدایت کی تھی۔مشیر تعلیم خیبر پختونخوا ضیا اللہ بنگش کا کہنا تھا کہ استاد بچوں کی تعلیم پر توجہ دینے کے بجائے سیاسی پارٹی کی ڈنڈا بردار فورس کا چیف بنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسکول رپورٹ نہ کرنے کی صورت میں افسر خان کو نوکری سے فارغ کیا جائے گا،تمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران اپنے اضلاع میں اساتذہ کو سیاسی سرگرمیوں سے دور رکھیں۔