عمران خان کے رونے کے دن شروع ہو چکے ہیں، حامد میر نے وزیراعظم کو ’’ولن‘‘ قرار دیدیا

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئرصحافی حامد میر نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے رونے کے دن شروع ہو گئے ہیں۔انہوں نے اپنے حالیہ کالم میں نواز شریف کو ‘ہیرو’ اور عمران خان کو ‘ولن’ قرار دے دیا۔حامد میر اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ پاکستان کی سیاست ایکشن اور سسپنس سے بھرپور فلم کی طرح ہم سب کو حیران و پریشان کئے ہوئے ہے۔کچھ پتہ نہیں چلتا کہ اس فلم کاہیرو کون ہے اور ولن کون۔کبھی ہیرو کے جذباتی ڈائیلاگ سن کر ہمیں ریاست مدینہ یاد آ جاتی ہے لیکن جیسے ہی وہ یوٹرن مارتا ہے تو وہ ولن بن جاتا ہے اور پبلک اسے برا بھلا کہنے لگتی ہے۔اس فلم کے اکثرو واقعات ناقابلِ یقین ہیں۔ایک ولن کو

لٹیروں کا سردار قرار دے کر گرفتار کیا جاتا ہے۔عدالت اسے سزا بھی سنا دیتی ہے اور یہ ولن جیل میں قید ہوجاتا ہے۔اچانک پتہ چلتا ہے کہ ولن کسی پراسرار بییماری کا شکار ہو گیا ہے۔اسے اسپتال لایا جاتا ہے ڈاکٹر کہتے ہیں وہ ولن کا علاج نہیں کر سکتے۔اسے علاج کے لیے سات سمندر پار لے جاؤ۔پھر عدالتی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس سزا یافتہ مجرم کو علاج کے لیے سات سمندر پار بھیجنے کی اجازت دے دیتی ہے۔اور چند ہی لمحوں میں ماحول بدل جاتا ہے۔سزا یافتہ ولن اپنے کے ساتھ بیرون ملک روانہ ہو کر ہیرو بن جاتا ہے اور جو تھوڑی دیر پہلے تک ہیرو تھا وہ مخالفین کی نقلیں اتار اتار کر اپنی خفت مٹانے لگا۔حامد میر مزید لکھتے ہیں کہ یہ فلم اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔بہت سے ناظرین خاموشی سے اس فلم کے دی اینڈ کا انتظار کرنے کی بجائے دائیں بائیں سے پوچھ رہے ہیں کہ اب آگے کیا ہوگا۔جو مجھ سے بار بار پوچھتے ہیں کہ آگے کیا ہو ان کو میں ٹال ٹال کر تنگ آ گیا ہوں۔پوچھتے ہیں یہ جو دوسری دفعہ جیل سے جہاز میں بیٹھ کر سات سمندر پار چلا گییا یہ واپس آئے گا یا نہیں؟۔حامد میر کہتے ہیں کہ یہ جانے والا تین دفعہ وزیراعظم بنا اور تیسری دفعہ واپس آنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اس سزا یافتہ مجرم کا جہاز پر چڑھنا بھی حیران ہے اور اس کی واپسی بھی حیران کن ہو گی،واپسی سے پہلے اینٹی کلائمکس شروع ہو چکا ہو گا اور آپ کو ہر طرف بدنامیوں کو گرد و غبار نظر آئے گا،فلم کے آخری مراحل میں اتنے زیادہ سیاسی جھٹکے آئیں گے کہ آپ کی چیخیں بھی نکل سکتی ہیں لیکن آخری مراحل میں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ہیرو ولن او ولن ہیرو بن جائے گا۔ڈائیریکٹر اور پروڈیوسر کو یقین ہے کہ یہ فلم بہت سے سیاسی مغالطے ختم کر دے گی۔اور اس فلم کا سکرپٹ رائٹر اصل ہیرو بن کر سامنے آئے گا۔لہذا آگے کیا ہو گا یہ پوچھنا بند کیجئے۔خاموشی سے فلم دیکھیئے،”دی اینڈ” بہت خطرناک ہے اور اُنہیں رلائے گا جو کہتے تھے کہ میں تمہیں بہت رلاؤں گا۔