وزیراعظم کا استعفیٰ تو نہیں ملا لیکن بدلے میں کیا چیز ملنے والی ہے، فضل الرحمن کا بڑادعویٰ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے دعویٰ کیا ہے کہ آزادی مارچ کا مقصد حاصل ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ رہبر کمیٹی نے حکومتی وفد سے کہا کہ ہمیں استفعیٰ یا برابر کی چیز چاہئیے۔برابر کی چیز ہمیں حاصل ہونے جا رہی ہے۔برابر کی چیز تین ماہ میں الیکشن کا انعقاد ہے۔مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ حکومت نہیں چل سکتی۔آزادی مارچ مذاکرات کے حوالے سے مولانا فضل االرحمن نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے یقین دلایا گیا ہے کہ دسمبر تک تبدیلی آئے گی۔جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے نجی ٹی وی سے

گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ تین ماہ کے اندر نئے انتخابات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔حکومت جائے گی یا ان ہاؤس تبدیلی آگئے گی۔ اس کا انتظار کرنا ہو گا۔نئے سال کے آغاز میں انتخابات ہوتے نظر آ رہے ہیں۔فضل الرحمن نے مزید کہا کہ مارچ کے مقاصد حاصل ہو رہے ہیں۔انتظار کرنا چاہئیے۔تمام طبقات متفق ہیں کہ حکومت نہیں چل سکتی۔کل اے پی سی بلائی ہے۔لائحہ عمل پر غور ہو گا۔شہباز شریف بیرون ملک ہیں۔اعلیٰ لیگی وفد اے پی سی میں شریک ہو گا۔ہ مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا تھا کہ مجھے گورنرشپ، چیئرمین سینیٹ، بلوچستان حکومت کی آفر کی گئی، مجھے کہا گيا کہ آپ ڈی آئی خان سے منتخب ہوکر واپس پارلیمنٹ میں آجائيں، میں نے موجودہ حکومت کی پیشکش مسترد کردی۔انہوں نے تین روز قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مجھے پیشکش کی گئی ہے کہ آپ کے لیے قومی اسمبلی سیٹ خالی کردیتے ہيں۔ آپ ڈی آئی خان سے منتخب ہوکر واپس پارلیمنٹ میں آجائيں۔ اسی طرح مجھے کہا گيا آپ کوبلوچستان حکومت دے دیتے ہیں۔ مجھے کہا گيا صوبے کی گورنرشپ دے دیتے ہيں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے چیرمین سینیٹ کے عہدے کی پیشکش ہوئی۔ مجھے یہ ساری آفرز اس دورحکومت میں ہوئی ہیں تاہم میں نے مسترد کر دیں۔